لاہور ( 92 نیوز رپورٹ) پنجاب پولیس کی وزیراعظم کے بھانجے بیرسٹر حسان خان نیازی پر خصوصی مہربانیاں،حملے کے مقدمے میں بااثر وکلا کو نامزد ہی نہیں کیاگیا۔پی آئی سی حملے میں ملوث حسان نیازی کا نام مقدمے میں شامل تک نہ کیا،پی آئی سی پروکلاکادھاوا کئی کرداروں کو بے نقاب کرنے لگا۔ایساہی ایک کرداروزیراعظم کے بھانجے حسان خان نیازی بھی ہیں۔گزشتہ روز وکلا کی جانب سے پی آئی سی پر حملے کے وقت وزیراعظم کے بھانجے بیرسٹر حسان خان نیازی بھی وہیں موجود تھے ۔وکلا کی جانب سے پی آئی سی پر حملے کے دوران بیرسٹر حسان نیازی کی توڑ پھوڑ کی ویڈیوز سامنے آگئیں ۔پولیس موبائل کی توڑ پھوڑ اور آگ لگانے میں بھی حسان نیازی پیش پیش رہے ۔ ویڈیو میں حسان خان نیازی کو پولیس موبائل کو توڑتے دیکھا جا سکتا ہے ۔حسان نیازی ساتھی وکلاکو اشتعال دلاتے اورتشددپراکساتے رہے ۔ ویڈیو ز سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر صارفین نے بیرسٹرحسان خان نیازی کے لتے لیناشروع کردیئے ۔ہواکارخ ناقدانہ دیکھا تو خود کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دینے والے حسان نیازی واقعہ سے لاتعلقی کا اظہارکرنے لگے ۔ٹوئٹرپیغام میں حسان نیازی نے کہاوکلا کے مقاصد کی سپورٹ کرتا ہوں ، تشدد کے عنصر سے لاتعلقی اختیار کرتا ہوں ، میں مظاہرے میں شریک تھا لیکن تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔دریں اثنا وزیراعظم کے بھانجے حسان نیازی ایڈووکیٹ پر حکومتی ردعمل سامنے آگیا،وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کے دوران کہاوزیراعظم رول آف لاپریقین رکھتے ہیں،وزیراعظم کابھانجاہویاکوئی بھی،جوبھی قانون کو متلاشی ہوگا،قانون اسکاپیچھا کریگااور کیفرکردارتک بھی پہنچائے گا،انہوں نے کہاابھی میں نے سوشل میڈیاپرحسان نیازی کی ٹویٹ دیکھی جس میں انہوں نے کہاہے کہ میں اس مظاہرے کی حمایت پر اپنی مذمت کرتاہوں،جب کوئی اپنی مذمت کرتاہے تویہ واضح پیغام ہے کہ اسے محسوس ہوگیاکہ اس نے غلط کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ حسان نیازی کے والد روزٹی وی پربیٹھ کرعمران خان کے اس رشتے کے تقدس کوکس طرح پامال کرتے ہیں،تویہ انہی کے سپوت ہیں۔