مکرمی!گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان، امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی دعوت پر امریکا کے تین روزہ دورہ پر تھے۔وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی سے امریکا میں بھرپور جلسہ عام کی صورت میں خطاب کیا اور ڈونلڈٹرمپ نے وزیراعظم کا وائٹ ہاؤس کے دروازے پر استقبال کیا اور گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ ٹرمپ نے وزیراعظم اور پاکستانی قوم کی تعریف کرتے ہوے کشمیر مسئلہ میں ثالثی کی پیشکش کردی جس سے بھارت میں صف ماتم بچھ گیا، جیسے کلبوشن کے فیصلے اور ابھی نندن کے موقع پر بچھی تھا۔ٹرمپ نے افغان طالبان مذاکرات کے لئے پاکستانی کردار کو سراہا کہا 18 سال میں اتنا قریب اور مددگار نہیں ہوا جتنا ان 6 ماہ میں مددگار ثابت ہوا۔ حقیقت میں ٹرمپ امریکا کے الیکشن اس منشور پر جیتا تھا کہ امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی ہوگی اور وہ بھی فاتحانہ۔ اب 2019 ء میں امریکی صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اگر پاکستان مذاکرات میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اگلے صدر پھر ڈونڈٹرمپ ہوں گے۔ اس لئے پاکستان کا کردار اہم ہوگا۔ صدر ڈونلڈٹرمپ نے دورہ پاکستان کی دعوت قبول کر لی ہے ادھر طالبان کے مذکراتی وفد کے سربراہ نے کہا ہے اگر پاکستان دورہ کی دعوت دے گا تو ضرور جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ستمبر تک امریکا سیز فائر چاہتا ہے اور فوج کا انخلا چاہتا ہے۔ ادھر آرمی چیف پینٹاگون میں امریکی فوجی قیادت کے ساتھ مصروف رہے اور وزیراعظم نے ڈونلڈٹرمپ کے ہمراہ 3 گھنٹے وائٹ ہاؤس میں گزارے اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ سے بھی ملاقات کی۔ سینٹ کے اراکین و اسپیکر سے بھی ملاقات کی۔ سیاسی مبصرین اس دورہ کو کامیاب دورہ سمجھتے ہیں۔ (حسان بن ساجد،لاہور)