لاہور(انور حسین سمرائ) وزیر اعظم عمران خان گورنر ہائوس لاہور کی دیواریں گرانے کے موقف پر قائم ہیں اور چیف سیکرٹری و ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکم دیا ہے کہ وہ عدالت میں حکم امتناعی کی موثر پیروی کرکے ختم کرائیں تاکہ دیوارکومسمار کرکے نوآبادیاتی نظام کی نشانی کو مکمل طور پر عوام کے لئے کھولا جاسکے ۔تفصیلات کے مطابق عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران گورنر ہائوس لاہور کو عوام کے لئے کھولنے ، یونیورسٹی یا میوزیم بنانے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم نے دسمبر میں پنجاب کابینہ کی صدرات کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ گورنر ہائوس لاہور کی بیرونی دیوار کو گرا دیا جائے تاکہ عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا جاسکے ۔ وزیر اعظم کے حکم پر پنجاب حکومت نے اگلے روز دیوار گرانے کا کام شروع کردیا تھا اور کچھ حصہ مسمار بھی کردیا تھا لیکن ایک شہری نے عدالت سے رجوع کیا کہ دیوار گرانے سے قومی ورثہ کو نقصان ہوگا اور موقف اپنایا کہ مسماری کا عمل پنجاب سپیشل پریمسسز آرڈینس 1885اور انٹیکس ایکٹ1975کی خلاف ورزی ہوگا۔ دیوار گرانے سے سکیورٹی کے خدشات بھی پیدا ہونگے ۔ لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمود الرشید شیخ نے دیوار گرانے پر حکم امتناعی جاری کرکے گرانے کے عمل کو فوری طور پر روک دیا تھا۔اب ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پران کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے چیف سیکرٹری پنجاب یوسف نسیم کھوکھر اور ایڈووکیٹ جنرل سردار احمد جمال سیکھرا کوایک خط نمبری2644/M/SPM/19 میں حکم دیا ہے کہ وہ عدالت میں حکم امتناعی کی موثرپیروی کریں اور ایک ہفتہ میں پراگراس دیں تاکہ دیوار مسمار کرکے عوام کے لئے نوآبادیاتی عمارت کو کھول دیا جائے ۔ ایوان وزیر اعظم کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ عمران خان اپنی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے پورے کرنے میں انتہائی سنجیدہ ہیں کیونکہ حکومت کو پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے اپوزیشن اور عوام کی شدید تنقید کا سامنا ہے ، دیوار مسمار کرکے عوام کی ہمدردیاں لینے کی کوشش کی جائے گی۔ پنجاب حکومت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ عمران خان کی ہدایت پر گورنر ہائوس کو عوام کے لئے اتوار کو کھولا جاتا ہے جس دوران صوبہ بھر سے سینکڑوں خاندان سیر کے لئے آتے ہیں۔