وزیر اعظم کا مہنگائی کنٹرول کرنے کا حکم وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پنجاب حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مملکت خداداد میں مہنگائی اور بے روزگاری نے ہر آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکومتی دعوئوں کے باوجود قرضوں میں اضافہ جاری رہا۔ بے روزگاری یونہی پھیلتی رہی۔ کارخانے فیکٹریاں اور کاروبار اسی طرح بند ہوتے رہے۔ روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری رہا۔ سرمایہ کار ماضی کی طرح ہجرتوں پر مجبور رہے تو پھر حالات کو کنٹرول کرنا موجودہ سیاسی بندوبست کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ اپوزیشن جماعتیں حکومتی دست و بازو بننے کی بجائے کرپشن چھپائو مہم میں مگن ہیں۔ اپوزیشن دشنام طرازی کی حدوں کو چھوتی تلخ نوائی سے لے کر بازاری‘ اشارہ بازی تک ہر حربہ استعمال کر کے حالات خراب کرنے اور معیشت کا بیڑہ غرق کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم عمران خان کا پنجاب حکومت کو شتر بے مہار مہنگائی کو لگام دینے کے احکامات خوش آئند ہیں۔ اپوزیشن اگر ملکی ترقی میں ایسے ہی روڑے اٹکاتی رہی تو عوام ان کے خلاف سڑکوںپر نکل کھڑے ہونگے۔ اس لیے اپوزیشن کو شور شرابے کی بجائے حکومتی غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے اور اپنے اثر و رسوخ سے عوامی فلاح کی پالیسیاں ترتیب دلوانی چاہئیں۔ حکومت بھی اپنے طور پر مہنگائی کنٹرول کرنے کے اقدامات کرے اور اپوزیشن جماعتیں بھی حکومتی ہاتھ بٹائیں تاکہ ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔