لاہور، اسلام آباد (جنرل رپورٹر ،کر ائم رپو رٹر ،سپیشل رپورٹر،نامہ نگار خصوصی، خبر نگار، 92 نیوزرپورٹ ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوزایجنسیاں )ڈاکٹروں کی جانب سے مبینہ طور پر اشتعال انگیز ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے پر وکلانے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بول دیا ، ہسپتال کے اندر اورباہر توڑ پھوڑ کی ، کئی افراد زخمی ہوگئے ،ہسپتال میں علاج معالجہ معطل ہونے سے 4 مریض جاں بحق ہو گئے ،مشتعل وکلا نے پولیس موبائل کو نذر آتش کردیا ، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور میڈیا نمائندوں کو بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا ، وکلانے ہسپتال کی ایمرجنسی اور دیگر شعبوں میں داخل ہو کربد ترین ہنگامہ آرائی کی ، شیشے اور فرنیچر توڑ دیا ، وکلا نے ہوائی فائرنگ بھی کی ،پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ او رلاٹھی چارج کیااور دو خواتین سمیت 34 وکلاکو گرفتار کر لیا ، وزیر اعظم اوروزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ۔ سوشل میڈیا پروکلا کیخلاف ڈاکٹروں کی پرانی ویڈیو دوبارہ وائرل ہونے پر لاہور ڈسٹرکٹ بار کے سینکڑوں وکلا نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دھاوا بول دیا اور مرکزی داخلی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے ۔ اس صورتحال کے باعث علاج معالجہ کے سلسلے میں آئے ہوئے مریض ہسپتال میں محبوس ہو کر رہ گئے ۔وکلا نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیواپ لوڈ کرتے ہوئے پی آئی سی آنے کاچیلنج کیا گیا جس پر بڑی تعداد میں وکلا لاہور بارسے ریلی کی صورت میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیلئے روانہ ہوئے جس کی وجہ سے شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا ۔ وکلا کے احتجاج کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری پی آئی سی کے باہر پہنچ گئی اور رکاوٹیں کھڑی کر کے مرکزی دروازے کوبند کر دیا گیا ۔ وکلا نے کچھ دیر تک ہسپتال کے باہر نعرے بازی کی اور بعد ازاں مشتعل ہو کر مرکزی دروازے کو توڑدیا اور اندر داخل ہو گئے اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی ۔ وکلا نے ہسپتال پر شدید پتھرائو کیا جس سے ایمرجنسی اور دیگر وارڈز کے شیشے ٹوٹ گئے ۔ ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور نرسز جانیں بچانے کیلئے بھاگ کھڑے ہوئے ۔پی آئی سی میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور سروس بند ہونے پر پولیس اہلکاروں نے ایمرجنسی مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ کچھ مریض اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرتے رہے ۔ مشتعل وکلا نے ایمرجنسی ،آئی سی یو ،سی سی یو اور دیگر شعبوں میں مریضوں کے بیڈ الٹا دیئے اور مشینری کو نقصان پہنچایا۔ مریضوں کے آکسیجن ماسک،ڈرپس اور خون کی بوتلیں زبردستی اتار دیں۔ ڈاکٹروں ،نرسز اور پیرا میڈیکس سٹاف کو تشد د کا نشانہ بنایا۔ ڈاکٹروں کے کپڑے پھاڑ دیئے ، ایک ڈاکٹر کا سر پھوڑ دیا۔خواتین ڈاکٹرز اور نرسز کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔مریضوں کے لواحقین دہائیاں دیتے رہے مگر وکلا نے کسی کی نہ سنی ۔ پولیس نے وکلا کے پتھرائو کے جواب میں آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔ ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس نے بھی پتھرائو شروع کر دیا جس کے بعد مشتعل وکلا ہسپتال کے اندرداخل ہو گئے اور پی آئی سی کی ایمر جنسی اور دیگر شعبوں میں شیشے اور فرنیچر توڑنا شروع کر دیا جبکہ مریضوں کے لواحقین کوبھی تشددکا نشانہ بنایا ۔وکلا کے حملے کے دوران بر وقت علاج نہ ہونے سے مغلپورہ کی رہائشی 70سالہ گلشن بی بی اور غازی آ باد کے 50سالہ محمد انور انتقال کر گئے ۔محمد بوٹا نامی مریض کی بھی سی سی یو میں ہلاکت رپورٹ ہوئی ۔غازی روڈ کے رہائشی75 سالہ بابو کو پی آئی سی سے جنرل ہسپتال اور پھر گلاب دیوی ہسپتال ریفر کیا گیا،تاہم طبی امداد نہ ملنے کے باعث وہ راستے میں دم توڑ گیا۔ چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق پرتشدد مظاہرے کے دوران 4 مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ۔ ڈاکٹر عرفان کا کہنا ہے 6 مریض دم توڑ گئے ۔ وکلا کے احتجاج اور پتھرائو اور پولیس سے جھڑپوں کے باعث پی آئی سی اور جیل روڈ میدان جنگ بنا رہا ۔وکلا کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ۔پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج اور شیلنگ کے دوران کئی وکلا جیلانی پارک میں چھپ گئے تاہم پولیس نے تعاقب کر کے انہیں گرفتار کر لیا ۔ وکلاکی جانب سے پتھرائو کی وجہ سے عام شہریوں کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ۔مریضوں کے ساتھ آنے والے لواحقین بھی مشتعل ہو گئے اور انہوں نے وکلاکو قابو کر لیااور ان کی درگت بنائی ۔پولیس اور شہریوں نے ہتھے چڑھنے والے وکلا کی دھنائی بھی کی۔ اسی دوران صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان ہنگامہ آرائی کو کنٹرول کرنے کی غرض سے پی آئی سی پہنچے تاہم مشتعل وکلا نے انہیں بھی قابو کر لیا اور انہیں گالیاں دیتے ہوئے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے بال نوچے ۔انہیں گریبان سے پکڑا اور تھپڑ بھی مارے ۔ پولیس اہلکاروں نے بمشکل وکلا کے چنگل سے چھڑایا اور بحفاظت دور لے گئے ۔فیاض الحسن چوہان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا وکلانے مجھے اغواکرنے کی کوشش کی ۔ ڈرنے والا نہیں ہوں ، تشدد کرنے والوں کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ کسی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔وکلا نے ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس موبائل کوبھی نذر آتش کردیا ۔ میڈیا نمائندوں کوبھی تشدد کانشانہ بنایا جبکہ نجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر سے موبائل بھی چھین لیا ۔92 نیوز کے رپورٹر برہان الدین کو بھی وکلا نے لاتیں اور گھونسے مارے ۔وکلا نے ہسپتال میں موجود 30گاڑیوں کو بھی تباہ کیا۔رینجرز نے پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا۔ پو لیس نے دو خواتین سمیت 34 وکلا کو حرا ست میں لے لیا ۔ وکلا کی ہنگامہ آرائی کے باعث جیل روڈ کے دونوں اطراف واقع مارکیٹیں،نجی ہسپتال ،ہوٹل ، فارمیساںاور نجی لیبارٹریاں بند کر دی گئیں۔ہسپتال آنے والی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی ہسپتال میں محصور ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے کہا وکلا نے زبردستی علاج معالجہ معطل کیا ،ذمہ داروں سے کوئی رعایت نہیں برتیں گے اور ان کیخلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے گا ۔مذکورہ واقعے کے بعد لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر اور سیکرٹری پی آئی سی ہسپتال پہنچے اور وکلا کیساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔وکلا نے سول سیکرٹریٹ کے باہر بھی دھرنا دیکر احتجاج کیا اور نعر ے بازی کی ۔ وکلانے جی پی او چوک میں بھی احتجاج کیا ۔وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب نے پی آئی سی میں پیش آنے والے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ۔وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں موجود وزیر اعلیٰ پنجاب تمام مصروفیات ترک کرکے واپس لاہور پہنچ گئے ۔ وزیراعظم نے پی آئی سی واقعے پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ۔وزیراعظم نے لاہور واقعے کے زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کی ہدایت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کیخلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعظم کاکہنا تھاکسی کو قانون ہاتھ میں لینے نہیں دیں گے ۔