اسلام آباد (خبر نگار خصوصی؍سپیشل رپورٹر ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت نے عددی برتری کے ذریعے انسداد منی لانڈرنگ سمیت 8 بلز منظورکرا لئے ، 4بل ایجنڈے میں شامل تھے ، 4 ضمنی ایجنڈے کے تحت شامل کئے گئے ۔ منظور کئے گئے بلوں میں اسلام آباد متروکہ وقف املاک ، سروے اینڈ میپنگ ترمیمی ،پاکستان میڈیکل کمیشن،پاکستان میڈیکل ٹریبونل ، انسداد دہشتگردی، معذورافراد کے حقوق اوراسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل شامل ہیں ۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ دوسری ترمیم بل 2020 کثرت رائے سے منظور کرلیا۔بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو 10 سال تک قید اور اڑھائی کروڑ جرمانہ ہوسکے گا ،منی کانڈرنگ میں ملوث افراد کی املاک بھی ضبط کی جا سکیں گی، اگر کوئی قانونی فرم کا ڈائریکٹر ، افسر یا ملازم بھی منی لانڈرنگ میں ملوث ہوا ،اسے بھی 10 سال تک قید ہو گی۔ اجلاس میں اسلام آباد وقف املاک بل 2020 بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل کے حق میں 200اور مخالفت میں190ووٹ آئے ،اسلام آباد وقف املاک بل2020 وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے بابر اعوان کی جانب سے بل پیش کرنے پر اعتراض اٹھایا جس پر وزیر قانون فروغ نسیم نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ غیر منتخب مشیر پرقدغن صرف ووٹ دینے کی حد تک ہے ۔ ایوان نے بل میں اپوزیشن کے سینیٹرمشتاق احمد کی ترامیم بھی مسترد کر دیں۔ وائس ووٹنگ پر اپوزیشن کے اعتراض پر سپیکر نے دوبارہ گنتی کرادی ۔بل پر ووٹنگ کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج اور سپیکرکے ڈائیس کا گھیرائو کیا، بل کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر کی جانب پھینک دیں اور شدید نعرے بازی کی۔ تحریک پر ووٹنگ کے دوران پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی اور حکومتی رکن کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ بل کے مطابق وفاق کے زیرانتظام علاقوں میں مساجد،امام بارگاہوں کے لئے زمین وقف کرنے سے پہلے رجسٹرڈ کرانا ہوگی، اس کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی نے اس کیخلاف ترمیم پیش کی اور کہا جس طرح اجلاس چلایا جا رہا ہے ، اس سے ہاؤس کی عزت نہیں ہو رہی، ہمیں بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بات کرنے کا موقع نہ دینے کیخلاف حزب اختلاف کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں سروے اور میپنگ ترمیمی بل 2020 ،اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2019 اوراینٹی ٹیرازم تھرڈ ترمیمی بل منظورکرلئے گئے ۔وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں قانون سازی میں مدد کرنے پر تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے موٹر وے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ حادثہ ہوا ہے تو ہم سوچ رہے ہیں کہ اس کے لئے قانون سازی کی جائے تاکہ آگے سے ناصرف ہماری خواتین بلکہ بچوں کو بھی تحفظ ملے ۔انہوں نے کہاہم نے فیصلہ کیا کہ اس پر تین طرفہ کام کریں گے ، قانون سازی کر رہے ہیں تاکہ عبرتناک سزائیں دی جا سکیں۔وزیر اعظم نے کہا ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہماری حکومت کی وجہ سے نہیں آئے ، یہ ہمیں وراثت میں ملا اور سب کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ اس کی بلیک لسٹ میں آنے کا مطلب ہے کہ پاکستان پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔انہوں نے کہا اب ہم مشکل حالات سے نکل رہے ہیں، ہم جس طرح سے کورونا سے نکلے ، اس کی کسی کو امید نہیں تھی۔وزیر اعظم نے کہا کورونا کے خلاف ہمارے کردار کی عالمی ادارہ صحت بھی تعریف کر رہا ہے اور مجھے امید تھی کہ اپوزیشن ہماری تعریف کرے گی لیکن جو میں نے آج اپوزیشن کا رویہ دیکھا تو اپوزیشن کی قیادت کے حوالے سے میرے خدشات درست ثابت ہو گئے ۔انہوں نے کہا ہمیں امید تھی کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کی قانون سازی کو اس لئے منظور کرے گی کیونکہ یہ پاکستان کے لئے ہے ، ہمیں کوئی ذاتی فائدہ تو نہیں ہے اور انہیں تھوڑی سی تعریف تو کردینی چاہئے تھی۔عمران خان نے کہا ایف اے ٹی ایف کے مذاکرات میں اپوزیشن نے جو کردار ادا کیا، اس کے بعد میرا ماننا ہے کہ پاکستان اور ان کی قیادت کے مفادات بالکل الٹ ہیں، انہیں پاکستان کی بہتری کی کوئی فکر نہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔وزیر اعظم نے کہا اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف کے سلسلے میں کی جا رہی قانون سازی کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی اور نیب کے 38قوانین میں سے 34میں ترمیم کی بات کی۔انہوں نے کہا 38 میں سے 34 ترامیم کا مقصد ہے کہ نیب کو دفن کر دو لہٰذا انہوں نے ایف اے ٹی ایف کو اپنے آپ کو کرپشن کیسز سے بچانے کے لئے استعمال کیا۔عمران خان نے کہا آخر میں یہ اس بات پر مصر تھے کہ منی لانڈرنگ پر قانون سازی نہ کی جائے ، اگر انہوں نے منی لانڈرنگ نہیں کی تو انہیں آخر کس بات کا ڈر ہے ۔انہوں نے کہا لندن دنیا کا مہنگا ترین شہر اور مے فیئر لندن کا مہنگا ترین علاقہ ہے اور وہاں ان کے پاس اتنی پراپرٹی موجود ہے ، ان کے پاس یہ پیسہ کدھر سے آیا، اس کی کوئی دستاویزات نہیں ہیں اور دوسری طرف آصف زرداری کی پراپرٹی کی فہرستیں ہیں جو اپنے نام پر نہیں لئے ہوئے ، صرف نیویارک میں ایک فلیٹ اپنے نام پر لے لیا جس کا کیس چل رہا ہے لیکن یہ پیسہ کہاں سے آیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے نیب میں اپنا بندہ رکھوایا جس کی وجہ سے ان کے مقدمات بند کر دیئے گئے اور 10سال میں پاکستان کا قرض 4گنا بڑھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا تو کیا یہ عوامی مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں؟ یہ تو اپنے لیڈرز کے چوری کئے ہوئے پیسے کی حفاظت کر رہے ہیں، ان کا مفاد پاکستان کے الٹ ہے ۔وزیر اعظم نے کہا ہم اپوزیشن سے ہر طرح کا سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں، ملک اور جمہوریت کے لئے جو چاہتے ہیں ہم سے کہیں، ہم سمجھوتہ کریں گے لیکن کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل وزیراعظم عمران خان کے زیرصدارت تحریک انصاف،اتحادیوں کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس ہوا۔قبل ازیں سپیکر اسد قیصر کے زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں کورم کی نشاندہی پر شور شرابہ کیا گیا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں نوک جھونک بھی ہوئی۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے کہا یہ اجلاس غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ، سپیکر صاحب! آپ کو غلط گائیڈ کیا جا رہا ہے ، ایک گھنٹہ 29 منٹ تک اجلاس معطل رہا، اجلاس شروع ہوا تو عدالت میں چیلنج کر دیں گے ۔ ۔ بعدازاں قومی اسمبلی اجلاس آج 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔وزیر سول ایوی ایشن غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کو اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ پورپین سیکٹرز پر پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بند ہونے سے 28 کروڑ روپے نقصان ہوا۔ دریں اثناء چیئرمین کے زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں تیسرا انسداد دہشتگردی ترمیمی بل بھی مسترد ہو گیا، بل کے حق میں31 ووٹ جبکہ مخالفت میں 34 ووٹ پڑے ، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بل کی مخالفت کی۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کی املاک ، مدارس، ہسپتال منجمد کرنے کی تفصیلات سینٹ میں پیش کر دی گئیں ۔ وزیر داخلہ نے تحریری جواب میں بتایاکہ کالعدم تنظیموں کے 76سکولز، 4کالجز، 15ہسپتال منجمد کئے گئے ، 383مدارس، 188ڈسپنسریاں، 10کشتیاں ، 17عمارتیں بھی شامل ہیں ۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کوئی حکومت علماء کی مدد کے بغیر کوئی اصلاحی کام نہیں کرسکتی،وزارت داخلہ نے خود کسی مدرسے پر پابندی نہیں لگائی،اقوام متحدہ کے حوالے سے وزارت خارجہ نے جو فہرست فراہم کی تھی ،ان مدارس پر پابندی لگائی گئی ۔وزیراطلاعات شبلی فراز نے اپنے خطاب میں کہا مذہبی جماعتوں کے جلسوں کو پی ٹی وی پر دکھایا جانا چاہئے تھا ،معلوم کروں گا مذہبی جماعتوں کے جلسے کیوں نہیں دکھائے گئے ۔5 سالوں کے دوران ریلوے خسارے کی تفصیلات بھی سینٹ میں پیش کر دی گئیں جس کے مطابق 5 سالوں کے دوران ریلوے مجموی طور پر 187 ارب سے زائد خسارے میں رہا۔ مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر مشاہداﷲ خان نے اداکارہ مہوش حیات اور پشاور زلمی کے مالک کو صدارتی ایوارڈ دینے کے معاملے پر اعتراض اٹھا تے ہوئے کہا 6 ستمبر کومہوش حیات اور پشاور زلمی کے مالک کو ایوارڈ دینے کی تصویر دیکھی ،مہوش حیات کا کچھ نہیں کہتا ،جاوید آفریدی کو ایوارڈ کیوں دیا گیا؟اجلاس میں کو آپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1935میں ترمیم کا بل منظور کرلیا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے مختلف قائمہ کمیٹیوں کو تفویض کئے گئے امور پر رپورٹیں پیش کرنے کے لئے مزید وقت دیدیا۔سینٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔دریں اثناء سینیٹر رحمن ملک کی سربراہی میں سینٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں انسداد دہشتگردی (تیسرے ترمیمی )بل 2020کی منظوری دیدی گئی۔