آج کل اچانک صدارتی نظام کی آوازیں آنے لگی ہیں بلکہ مختلف تجزیوں، ٹاک شوز میں یہ آپشن زیر غوربھی آنے لگا۔ آوازیں اتنی بلند بہرحال ہوئی ہیں کہ ان کا ردعمل بھی آیا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور اکثر سیاسی ، صحافتی حلقوں نے صدارتی نظام کی مخالفت اور پارلیمانی نظام کی حمایت میں آواز اٹھانا،اس کے لئے دلائل دینا شروع کر دئیے۔ ان میں سے بعض تو یوں سہمے ہوئے لگ رہے ہیں ، جیسے انہیں شبہ ہو کہ کسی صبح اٹھے تو ملک میں اچانک صدارتی نظام آ چکا ہوگا۔ میرے جیسے صحافت کے طالب علموں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کسی فرد، افراد یا گروہ کی خواہش تو ہوسکتی ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ کس طرح ممکن ہے؟ آئین میں کسی بھی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت لازم ہے۔ موجودہ حکومت کو قومی اسمبلی میں بمشکل سادہ اکثریت حاصل ہے۔ ان کے درجن بھر ارکان اسمبلی ناخوش ہو کر منہ پھیر لیں تو بجٹ منظور کرانا بھی مسئلہ بن جائے گا۔ سینٹ میں تو خیر سے یہ برتری بھی حاصل نہیں۔ تحریک انصاف اور اس کے تمام اتحادی مل کر بھی سادہ اکثریت نہیں رکھتے۔ قومی اسمبلی میں اگر حکمران جماعت کو بڑی اکثریت حاصل ہو تو ایک صورت یہ نکالی جا سکتی ہے کہ سینٹ سے منظوری نہ ہونے کی صورت میں دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلا لیا جائے، ایسے میں سینٹ میں عددی قلت کا ازالہ ارکان قومی اسمبلی کی زیادہ تعداد سے ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اس معاملے میں بھی مفلس ہے۔ اگراپوزیشن یعنی پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یوآئی ، بلوچ پشتون قوم پرست اکٹھے ہوجائیں تو مشترکہ اجلاس میں بھی تحریک انصاف کو یقینی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کرنے جیسی بنیادی نوعیت کی ترمیم کاذکر کیوں چھیڑا جا رہا ہے؟ جو کام ہو سکتا نہیں، اس پر آخر بحث کیوں ؟ ویسے تو نظام حکومت کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بحث میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جمہوری معاشرے میں ہر ایک کو اپنی رائے رکھنے اور اسے پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ مکالمہ ہونا چاہیے اور اگر دلیل سے بات کی جائے تو قائل نہ ہونے کے باوجود دونوں فریق کچھ نہ کچھ سیکھتے ہی ہیں۔مجھے اس پر حیرت ہے کہ صدارتی نظام کی خواہش یا سوچ رکھنے والوں کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے جیسے وہ آمریت کے فرستادہ ہوں اور کسی ڈکٹیٹر یا خفیہ تنظیم کے اشارے پر سرگرم ہوں۔ یہ نامناسب ہے۔ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں مختلف نظام موجود ہیں۔ کہیں پر پارلیمانی تو کسی جگہ صدارتی نظام حکومت۔ بعض ممالک جیسے فرانس میںان دونوں کا امتزاج ہے۔ صدارتی نظام کی بھی دو تین شکلیں موجود ہیں، کہیں پر امریکہ کی طرح کا صدارتی سسٹم تو کسی نے اپنے حالات کے مطابق تھوڑی بہت ترمیم کر ڈالی۔ نائیجریا چند سال پہلے جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک دلچسپ بات دیکھی ۔ نائیجریا میں مسلمان اکثریت میں ہیں، مگر مسیحی آبادی بھی بڑی تعداد میں ہے، شائد مسلمان باون اور مسیحی اڑتالیس فیصد ہیں۔ ان کے آئین کے مطابق ایک بار صدر مسلمان جبکہ اگلی ٹرم مسیحی صدر بنے گا، نائب صدر کا عہدہ بھی موجود ہے۔ اگر مسلمان صدر ہو ا تو نائب صدر مسیحی جبکہ مسیحی صدر ہونے کی صدر میں نائب صدارت کسی مسلمان کو ملے گی۔ترکی میں طویل عرصہ پارلیمانی نظام چلتا رہا، چند سال پہلے موجودہ ترک قائد طیب اردوان نے صدارتی نظام کا عندیہ دیا اور پھر بتدریج آئینی ترامیم کے ذریعے وہ اسی طرف گئے۔ پچھلے سال ترک آئین کے مطابق ایک عوامی ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام کی راہ ہموار ہوگئی۔ اب ترکی کا اہم ترین طاقتور عہدہ صدر کا ہے۔ترک پارلیمنٹ موجود ہے، مگر اس کے اختیارات اب قدرے محدود ہوچکے ، صدر کو ٹف ٹائم دینا ممکن نہیں۔ امریکہ میں کانگریس امریکی صدر کو کسی حد تک تنگ کر سکتی ہے، اہم حکومتی تقرریاںوہاں سینٹ کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکیں۔ ترکی میں شائد یہ سوچ کر صدر کے عہدے کو مزید طاقتور بنایا گیا۔ بھارت میں پارلیمانی نظام حکومت ہے ، مگر وہاں اراکین پارلیمنٹ کی کرپشن اور مرکز میں کسی مخلوط حکومت بننے کی شکل میں چھوٹی علاقائی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے بیزار ہو کر بعض دانشور اور لکھاری صدارتی نظام کی بات کر ڈالتے ہیں۔نامور بھارتی صحافی، ادیب آنجہانی خوش ونت سنگھ نے کئی بار یہ بات اپنے کالموں میں لکھی کہ بھارت کو حقیقی جمہوریت کی طرف جانا ہے تو پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام اپنانا چاہیے۔ وہاں ویسے عمومی رائے عامہ اس کے خلاف ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں میں پارلیمانی نظام کو بھی آئین کا ایسا بنیادی حصہ مانا گیا ہے، جسے پارلیمنٹ بھی نہیں تبدیل کر سکتی۔ اسے بیسک سٹرکچر ڈاکٹرائن کہتے ہیں، جس کے مطابق آئین میں بعض چیزیں اتنی بنیادی اور اہم ہیں کہ انہیں خود پارلیمنٹ بھی نہیں بدل سکتی۔ ہمارے ہاں صدارتی نظام کا جیسے نام لیا جائے، اردو محاورے کے مطابق ایک بڑے حلقے کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں، وہ چوکنا ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں جیسے کسی جھاڑی کے پیچھے چھپا کوئی شخص پارلیمانی نظام کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ انہیںلگتا ہے جیسے صدارتی نظام کا نام دراصل اسٹیبلشمنٹ کو سپورٹ کرنے اور کسی فوجی آمر کی راہ ہموار کرنے کے لئے لیا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ شائد یہ ہے کہ ہمارے فوجی آمروں کو صدر کا عہدہ مرغوب تھا اور وہ آخری لمحے تک اسی عہدے سے چمٹے رہے۔ ایوب خان نے صدارتی نظام بنایا اور متنازع صدارتی انتخابات کرائے ، جن میں اگرحکومتی مداخلت نہ کی جاتی توایوب خان کی جگہ محترمہ فاطمہ جناح صدر ہوتیں۔نوائے وقت نے اس صدارتی انتخابات کے نتیجے کی بڑی دلچسپ شہہ سرخی لگائی تھی، ’’الیکشن کمیشن نے ایوب خان کی کامیابی کا اعلان کر دیا‘‘ایسی خوبصورت، معنی خیز سرخی کوئی غیر معمولی تخلیقی اخبارنویس ہی نکال سکتا ہے۔دوسرے آمر یحیٰ خان بھی صدر رہے، حتیٰ کہ ملک ٹوٹ جانے کے باعث ان کے لئے مزید حکومت کرنا ممکن نہ رہا۔ جنرل ضیا الحق نے پہلے ایک جعلی بلکہ شرمناک ریفرنڈم کے ذریعے خود کو صدر ’’منتخب‘‘کرایا اور پھر آخری سانسوں تک اسی عہدے سے چمٹے رہے۔ جونیجو اسمبلی توڑ دینے کے بعد کہا جاتا ہے کہ وہ صدارتی نظام کا ڈول ڈالنا چاہتے تھے، مگرزندگی نے مہلت نہ دی۔ جنرل پرویز مشرف نے بھی ضیا کی پیروی کی، ریفرنڈم کرایا اور صدر کے طور پر آٹھ برس گزار دئیے۔آمروں کو صدر بننا اس لئے شائد پسند رہا کہ فرد واحد کو یہ عہدہ سوٹ کرتا ہے۔پارلیمانی نظام میں پہلے خود منتخب ہونا اور پھر سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے خاصے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ مختلف حلقوں سے کم از کم پونے دو سو کے قریب لوگوں کو مینیج کرنا آسان نہیں ہوتا کہ سیاسی جماعتیں اپنی پاور پاکٹس میں مزاحمت کرتی ہیں اور اگرکھل کر دھاندلی کی جائے توعالمی سطح پر نتائج قابل اعتماد نہیں رہتے۔ اس لئے صدر بننے اور اس کے لئے ریفرنڈم ، عموماً جعلی ریفرنڈم کرانے کاراستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ہمارے جمہوری، سیاسی ، صحافتی حلقے اسی لئے صدارتی نظام کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ اس کے اپنے کچھ فوائد ہیں اور اس پر سنجیدہ بحث کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کم سے کم پارلیمانی جماعتوں پر کچھ اخلاقی دبائو تو پڑے گا کہ اگر وہ ڈیلیور نہ کر پائیں اورسیاسی کلچر نہ لاسکیں توپارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام آ سکتا ہے۔ پاکستان کے معروضی تناظر میں صدارتی نظام بعض سنجیدہ مضمرات کا حامل بھی ہے۔ ہمارا ایک صوبہ باقی تینوں صوبوں سے آبادی میں بڑا ہے۔ اگر کوئی امیدوار صرف پنجاب سے اکثریت حاصل کر لے تو چاہے اسے باقی تینوںصوبوں سے کم ووٹ ملیں یا کہیں پر سرے سے کچھ بھی نہ ملے، تب بھی وہ صدر منتخب ہوسکتا ہے۔ یہ فیڈریشن کے لئے نقصان دہ ہے۔ پارلیمانی نظام میں بھی یہ قباحت ہے، مگر وہاں پھر بھی چھوٹے صوبے کے چند ایک ارکان اسمبلی اپنے فعال کردار کی بنا پر بھرپور نمائندگی کر سکتے ہیں، یوں کسی حد تک محرومی کے احساس کی تلافی ہوسکتی ہے۔ اگر کبھی صدارتی نظام کی طرف معاملہ جائے تو ایسی صورت میں یہ قدغن ضرور ہونی چاہیے کہ جیتنے والا امیدوار دو یا تین صوبوں سے پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ لے ۔ اس طرح امیدوار کو صرف ایک صوبے کی جگہ پورے ملک پر توجہ دینا پڑجائے گی۔ صدارتی نظام پر بحث میں کوئی حرج نہیں۔ سیاست میں مختلف آپشن پر بات ہوتی رہتی ہے۔ صدارتی نظام کی بات کہنے والے غدار نہیں اور نہ ہی پارلیمانی نظام ایسا مقدس ہے کہ اس سے ہٹ کر کچھ سوچا نہیں جا سکتا۔ یہ بات مگر یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت سیاسی نظام کی تبدیلی بہت بڑی اتھل پتھل ہوگی۔ پاکستان پہلے ہی طرح طرح کی سیاسی افواہوں، کنفیوژن پھیلانے والی، غیر یقینی کی لہروں میں تیر رہا ہے۔ اس وقت بنیادی چیزوں کے ساتھ جڑے رہنے ، ان میں اصلاحات لانے کا وقت ہے۔ کسی بڑے قدم ،کسی انتہائی نوعیت کی تبدیلی سے پہلے ہمیں پارلیمانی نظام کو بہتر بنانا چاہیے ۔اس کے لئے مگر ضروری ہے کہ حکومت ، اپوزیشن دونوں اپنے رویوں پر نظرثانی کریں۔ پارلیمنٹ کو اکھاڑہ نہ بنائیں۔ قائمہ کمیٹیوں کو فعال بنائیں، اپنی سیاسی چالوں ادھر نہ آزمائیں۔رہی ٹیکنوکریٹس کی کمی تو سینٹ کا انتخاب بہت زیادہ دور نہیں، سال ڈیڑھ میں باری آ جائے گی، تب اپنی مرضی کے ٹیکنوکریٹ سینٹ میں لے آئیں۔ کابینہ میں غیر منتخب ماہرین شامل کرنے کااعتراض بھی ختم ہوجائے گا۔