وفاقی وزیر مذہبی امور و بین اُلمذاہب ہم آہنگی پیر نور اُلحق قادری صاحب کے بیان کے مطابق بھارتی حکومت نے 14 مارچ سے 24 اپریل 2019ء تک اجمیر شریف میں ، خواجہ غریب نواز ، حضرت خواجہ معین اُلدّین چشتی ؒ کے 789 ویں عرس مبارک کی تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستانی زائرین کو ویزا دینے سے انکار کردِیا ہے ۔ اِس پر وفاقی وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ’’ پچھلے سال بھی خواجہ غریب نوازؒ کے عُرس مبارک پر پاکستانی زائرین کو حاضری کے لئے ویزا دینے سے انکار کردِیا گیا تھا ‘‘ ۔ اِس پر جنابِ پیر نور اُلحق قادری نے کہا کہ ’’ زائرین اجمیر شریف کو ویزا دینے سے انکار سے بھارت کا انتہا پسندانہ چہرہ سامنے آگیا ہے ‘‘۔ معزز قارئین!۔اِس موقع پر اجمیر شریف کے حوالے سے ہندوستان کی مختصر تاریخ بیان کرنا ضروری ہے ۔ 1191ء میں غزنی کا سُلطان شہاب اُلدّین غوری تراؔئین کی پہلی جنگ میں دہلی / اجمیر کے راجا پرتھوی راج چوہان سے شکست کھا گیا تھا۔ پھر خواجہ غریب نواز ؒ نے شہاب اُلدّین غوری کے خواب میں آ کر اِسے فتح کی بشارت دِی تو، 1193ء میں شہاب اُلدّین غوری نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دے دِی تھی۔ فتح کے بعد غوریؔ بہت سا مال و دولت لے کر خواجہ صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہُوا تو، خواجہ صاحبؒ نے اُسے حُکم دِیا کہ ’’یہ سارا مال و دولت بلا لحاظ مذہب ومِلّت اجمیر کے غریبوں میں بانٹ دو!‘‘۔ غوریؔ نے ایسا ہی کِیا۔ دوسری بار غوری پھر بہت سا مال و دولت لے کر حاضر ہُوا۔ خواجہ صاحبؒ نے فرمایا کہ ’’ یہ مال و دولت میرے کسی کام کا نہیں !‘‘۔ غوری نے کہا حضور کوئی اور حُکم؟۔ خواجہ صاحبؒ نے فرمایا کہ ’’مقتول پرتھوی راج چوہان کے بیٹے گوبِند راج چوہان کو اجمیر کا حاکم بنا دو!‘‘۔ غوری ؔنے کہا کہ’’ حضور !۔ وہ تو غیر مسلم ہے ؟ ‘‘۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ ’’ فاتح مُسلم قوم کی طرف سے مفتوح ہندو قوم کو یقین دلانا ضروری ہے کہ’’ فاتح قوم ۔ اِنسان دوست ہے!‘‘۔ سُلطان شہاب اُلدّین غوری نے حکم کی تعمیل کی ۔ معزز قارئین! مجھے یقین ہے کہ ’’ حضرت قائداعظمؒ نے بھی خواجہ غریب نواز ؒکی حکمت عملی اختیار کی تھی۔ 11 اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہُوئے قائداعظمؒ نے پاکستان کے ہر مذہب کے شہری کو ، مسلمانوں کے برابر مذہبی ،سیاسی اور سماجی حقوق کے تحفظ کا یقین دِلایا تھا ۔یہاں تک کہ قائداعظمؒ نے ایک ہندو جوگندر ناتھ منڈل کو پاکستان کا وزیر قانون بھی بنا دِیا تھا ۔ قائداعظم ؒ کی زندگی میں اور اُن کے بعد نہ سبھی حکمرانوں کی طرف سے مختلف اقلیتوں کو مسلمانوں کے برابر حقوق دئیے گئے بلکہ پاکستان میں غیر مسلموں کے مقدس مقامات مقامات کی زیارت ( یاترا) کے لئے بھارت سمیت دُنیا بھر کے لوگوں کو فراغ دِلی سے ویزے کی سہولت دِی جاتی رہی ہے ۔28 نومبر 2018ء کو وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے ۔ اُنہوں نے بھارتی اور پاکستانی سِکھوں سے مصافحہ بھی کیا۔ پھر وزیراعظم عمران خان نے سِکھ یاتریوں کو اِس طرح کی سہولتیں دینے کا اعلان کِیا جو پہلے کبھی کسی وزیراعظم نے نہیں دِی تھیں۔ 30 نومبر 2018ء کو میرے کالم کا عنوان تھا کہ ’’ سِکھوںؔ کے لئے تو، نیا پاکستانؔ بن گیا؟‘‘۔ معزز قارئین!۔ مصورِ پاکستان علاّمہ اقبالؒ ، بین اُلمذاہب ہم آہنگی کے علمبردار تھے ۔ آپ ؒ نے وِشنو دیوتا کے اوتار (ہندوئوں کے )بھگوان راؔم کے بارے میں اپنی نظم میں لکھا کہ … لبریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہند! سب فلسفی ہیں ،خطّۂ مغرب کے ،رام ِ ہند! …O… ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز! اہلِ نظر سمجھتے ہیں ، اِس کو امامِ ہند! اپنی نظم ’’ نانک‘‘ کے عنوان سے علاّمہ اقبالؒ نے بُدّھ مت کے بانی مہاتما گوتم بُدّھ ؔ کے ساتھ ساتھ سِکھوں کے پہلے گرو ، گرو نانک جی کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہُوئے کہاکہ … قوم نے پیغامِ گوتمؔ کی ذرا پروا، نہ کی! قدر پہچانی نہ اپنے ،گوہر یک دانہ ؔکی ! …O… پھر اُٹھی آخر صدا ،توحید کی پنجاب سے! ہند کو ،اِک مردِ ؔکامل نے ،جگایا خواب سے ! ہندو قوم ۔سُورج (آفتاب) کو بھی اپنے 86ہزار دیوتائوں میں شامل کر کے اُس کی پوجا کرتی ہے ۔ ہندوئوںکی مقدس کتاب ’’ رِگ وید‘‘ میں سُورج دیوتا کی پوجا کے لئے ’’ گائتری منتر ‘‘ بھی شامل ہے۔ سر عبداُلقادر کے رسالہ ’’مخزن‘‘ کے 1902ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ،علاّمہ اقبالؒ کی ایک نظم ’’ آفتاب‘‘۔ ’’گائتری منتر ‘‘ کا ترجمہ تھی( علاّمہ اقبالؒ نے اپنے قارئین کو یہ بات بتا بھی دِی تھی) ۔ نظم ’’ آفتاب‘‘ کے تین شعر نذر قارئین ہیں… اے آفتاب ! روح و روانِ جہاں ہے تُو! شیرازہ بند ِ دفتر کونِ و مکاں ہے تُو! …O… باعث ہے تُو ،وجود و عدم کی ،نُمود کا ! ہے سبز تیرے دم سے ،چمن ہست و بُود کا! …O… ہر چیز کی حیات کا ،پروردگار تُو! زائید گانِ نور کا ،ہے تاجدار تُو! معزز قارئین!۔ اردو ، فارسی اور پنجابی کے ہزاروں اشعار کے حافظ ؔ، تحریکِ پاکستان کے (گولڈ میڈلسٹ) کارکن چودھری ظفر اللہ خان نے کئی سال ہُوئے غیر مسلم (زیادہ تر ہندو ) نعت گو شاعروں کا منتخب کلام ’’ فیضانِ رحمت ِ بیکراں‘‘ کے عنوان سے شائع کِیا تھا۔ 23 فروری 2015ء کو چودھری صاحب نے ( پہلی بار ) مجھے اور 1981ء سے میرے دوست گلاسگو کے ’’بابائے امن‘‘ ملک غلام ربانی کو اپنے گھر مدّعو کِیا تو’’ فیضانِ رحمت ِ بیکراں ‘‘ کے ایک ، ایک نسخے سے بھی نوازا۔ مَیں آپ کی خدمت میں 23 فروری 2015ء کو 72 سال کی عُمر میں انتقال کرنے والے ایک محب وطن ہندو (سابق قائم مقام ) چیف جسٹس آف پاکستان رانا بھگوان داس کی (اردو میں ) صِرف ایک نعت ِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کررہا ہُوں (جس میں عربی اور فارسی زبان کی چاشنی بھی ہے ) … ’’ نبی مْکرّم ؐ،شہنشاہ ،عالیؔ …O… نبی مْکرّم ؐ،شہنشاہ ،عالیؔ ! یہ اوصاف ذاتی ،و شانِ کمالی! …O… جمالِ دو عالم ،تیری ذات عالی! دو عالم کی رونق، تیری خُوش جمالی! …O… خُدا کا جو نائب ہُوا ،ہے یہ انساں! یہ سب کچھ ہے تیری ،ستودہ خصالی! …O… تو فیّاضِ عالم ؐہے ، داتائے اعظمؐ! مُبارک ترے در،کاہر اِک سوالی! معزز قارئین!۔ 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد جناب عمران خان 18 اگست 2018ء کو وزیراعظم منتخب ہُوئے اور 9 ستمبر 2018ء کو جناب عارف علوی صدرِ پاکستان ۔ اُس وقت بھی نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم تھے ، جب 27 محرم اُلحرام 2018ء کو پاکستان نے غوری میزائل سسٹم کے تربیتی لانچ کا ، کامیاب تجربہ کِیا۔ آئی۔ ایس۔ پی۔ آر کے مطابق یہ تجربہ ’’ آرمی سٹریٹجک فورس‘‘ نے کِیا جِس کا مقصد ’’ آرمی سٹریٹجک فورس‘‘ کی پیشہ ورانہ فنّی تیاریوں کا جائزہ لینا تھا۔ غوریؔ بیلسٹک میزائل روایتی اور ’’ نیو کلیئر وار ہیڈز‘‘ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 1300 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔ کمانڈر آرمی سٹریٹجک فورس کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ہلال حسین نے ، چیئرمین نیسکام ڈاکٹر نبیل حیات اور چیئرمین کے ۔ آر۔ ایل ،جناب طاہر اکرام کی موجودگی میں ، میزائل کے کامیاب تجربے کا مشاہدہ کِیا‘‘۔ صدرِ مملکت جناب عارف علوی، وزیراعظم جناب عمران خان ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور افواجِ پاکستان کے سربراہان نے میزائل سسٹم کے کامیاب تجربے پر افواجِ پاکستان اور انجینئرز کو مبارک باد دِی تھی جو، دراصل پوری قوم کی طرف سے مبارکباد تھی ۔ جن پاکستانی زائرین کو خواجہ غریب نوازؒ کے آستانے پر حاضری کا موقع نہیں مِلا ، اُنہیں کیا غم کہ ’’ خواجہ غریب نوازؒ تو، اُن کے ( بلکہ ہم سب کے ) دِلوں میں بستے ہیں ۔ خواجہ غریب نوازؒ کے ساتھ ساتھ ، اُن کے مُرید ِ خاص شہاب اُلدّین غوری اور پاکستان کے غوری میزائل کو بھی یاد رکھا جائے تو، کسی کا کیا ڈر؟۔