نیویارک( ندیم منظور سلہری سے ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں )پاکستان کو سفارتی محاذ پر ایک اور بڑی کامیابی مل گئی۔سلامتی کونسل نے پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر 50سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے 5 مستقل اور 10 غیرمستقل ارکان نے شرکت کی۔ پاکستان کی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں ارکان نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور مسئلے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل نے پر زور دیا۔ یو این ملٹری ایڈوائزر جنرل کارلوس لوئٹے نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔اقوام متحدہ کے قیام امن سپورٹ مشن کے معاون سیکرٹری جنرل آسکر فرنانڈس نے بھی شرکاکو بریفنگ دی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرکرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت نے سکیورٹی کونسل کا اجلاس رکوانے کیلئے بہت کوششیں کیں لیکن وہ ناکام رہا۔ اجلاس میں یہ طے ہو گیا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے ۔اجلاس نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی توثیق کی ہے ۔ کشمیریوں کی آواز کو دبایا گیا لیکن ا ن کی قربانیاں رنگ لائیں اور آج پوری دنیا نے ایک بار پھر ان کی آواز کو سنا ہے ۔ بھارت مقبوضہ علاقوں میں ہیومن رائٹس کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے حالات پر پوری دنیا کو تشویش ہے ۔ کشمیریوں کو قید تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی ۔سلامتی کونسل کا اجلاس پہلا قدم تھا لیکن آخری قدم نہیں ۔اب بات یہاں ختم نہیں ہو گی بلکہ جب کشمیریوں کو انصاف مل جائے گا تو پھر بات ختم ہو گی۔اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر یو این سکیورٹی جنرل نے بھی اپنا بیان دیا تھا جس میں انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا ۔چین سمجھتا ہے یہ ایک غیر حل شدہ اور متنازعہ مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے ۔ چین کو کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش ہے ۔ بھارت نے جو اقدام اٹھایا اس سے چین کی سلامتی کو بھی کئی خطرات لاحق ہیں اور اس سے خطے میں تنائو بڑھے گا۔اجلاس میں دیگر ممبران نے بھی اس اہم مسئلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ چین چاہتا ہے معاملے کو مزید پیچیدہ نہ کیا جائے اور دونوں ممالک اس حد تک معاملات کو نہ لے جائیں کہ کشیدگی میں اضافہ ہو۔ دونوں ممالک کو یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے ۔ادھر روس نے بھی پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے ۔روس کے اقوام متحدہ میں اول نائب مستقل نمائندے دمتری پولیانسکی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ چارٹر اور قراردادوں کے تحت حل کیا جائے ۔پاکستان ، بھارت شملہ معاہدے اور اعلامیہ لاہور کے تحت آگے بڑھ سکتے ہیں۔امید ہے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے اختلافات حل ہوں گے ۔چاہتے ہیں پاکستان اور بھارت ملکر مسائل کا سیاسی و سفارتی حل نکالیں۔ اسلام آباد، واشنگٹن (سپیشل رپورٹر، وقائع نگار خصوصی، نیوزرپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میںمسئلہ کشمیر اور پاک بھارت کشیدہ صورتحال اور افغان امن عمل سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو 20 منٹ جاری رہی۔ وائٹ ہائوس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدر نے زور دیا کہ دونوں ممالک کشمیر پر مذاکرات کریں۔امریکی صدر نے کہا پاکستان اور بھارت بات چیت کے ذریعے کشیدگی کم کریں۔وزیر خارجہ شاہ محمود نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اوروزیراعظم عمران خان کے درمیان مسئلہ کشمیر، افغانستان اور خطے کی صورتحال سمیت اہم امور پر تفصیلی بات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھی گفتگو رہی۔عمران خان نے امریکی صدر کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا اور اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی رابطے میں رہنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عالمی رہنماؤں سے رابطے کر رہے ہیں، سلامتی کونسل کے 4مستقل ارکان سے رابطے ہو چکے جبکہ فرانس سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے صدر ٹرمپ کیساتھ افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا کہ کیسے افغانستان کا امن پاکستان کیلئے اور خطے کے استحکام کیلئے ضروری ہے ۔ادھر وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ فاشسٹ مودی حکومت کو پتہ ہونا چاہیے قوم متحد ہو تو کوئی طاقت نہیں روک سکتی ، مقبوضہ کشمیر میں ہندو توا حربے بری طرح ناکام ہونگے ۔فاشسٹ ہندو سپر میسی میں مبتلا مودی حکومت کو پتہ ہونا چاہیے طاقت سے صرف افواج اور دہشتگردوں کو شکست دی جاسکتی ہے ، قوم جدوجہد آزادی میں متحد ہو تو کوئی طاقت ا نہیں نہیں روک سکتی، کشمیریوںکی جدوجہد آزادی کی کسی صورت نہیںدبایا جا سکتا۔ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ تسلیم کرنے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دنیا نے تسلیم کرلیا کہ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں۔ شاہ محمود نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا میں پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ جسے بھارت نے مختلف حیلوں بہانوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا آج بے نقاب ہو گیا۔ 1965 کے بعد پہلی مرتبہ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا۔ ہندوستان دنیا کے دارلخلافوں میں یہ پیش کر رہا تھا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے ، آج دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ ان کا اندرونی معاملہ نہیں ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے بیان میں کہا گیا کہ یہ متنازع مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل ہونا چاہیے ، ہندوستان نے خود دو طرفہ بات چیت کے راستے بند کئے ، آج پانچ دہائیوں کے بعد بھارت کے نقطہ نظر کو شکست ہوئی۔ دنیا سمجھتی ہے کرفیو ختم ہونے کے بعد زمینی حقائق سامنے آئیں گے ، انہوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور باریک بینی سے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔آج وزارتِ خارجہ میں اہم اجلاس طلب کیا ہے ، اس میں مزید غور و خوض کریں گے ، جیسے جیسے صورتحال سامنے آتی جائے گی ہم اپنا لائحہ عمل طے کرتے جائیں گے ۔پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ہم کشمیریوں کیساتھ کھڑے رہیں گے ۔پاکستانی میڈیا کا کردار قابل تحسین ہے ۔ میں بین الاقوامی میڈیا کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ بھارت نے جو حقائق چھپانے کی کوشش کی میڈیا نے انہیں بے نقاب کیا۔ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے حقائق کو باہر نکالا۔ میں ہندوستان کو چیلنج کرتا ہوں کہ کشمیریوں کو آزاد کیجیے اور پھر ان کو جمع ہونے دیں، بے شک پانچ اگست کے اقدام پر رائے لے لیں، بین الاقوامی مبصرین کو وہاں تک رسائی دیں تو سچ سامنے آ جائے گا۔ میں بین الاقوامی کمیونٹی اور سکیورٹی کونسل کا پھر شکرگزار ہوں کہ انہوں نے 72 گھنٹوں میں ہماری درخواست پر اجلاس طلب کیا۔ بھارتی وزیردفاع کے ایٹمی حملے میں ممکنہ پہل کے حوالے سے بیان پر وزیرخارجہ نے کہا بھارت کے وزیر دفاع نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا جس پر وزارتِ خارجہ نے مشاورت کی، ہمارا ان کو جواب یہ ہے کہ اس وقت بھارتی وزیر دفاع کا یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے ۔پاکستان نے جنوبی ایشیا میں نیوکلیئر کے حوالے سے تحمل کی پالیسی اپنائے رکھی ہے اور رکھتا رہے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا جبتک بھارتی وزیر خارجہ کشمیر سے کرفیو نہیں ہٹاتا اور جارحیت کو ختم نہیں کرتا میں بطور وزیر خارجہ ان سے کوئی رابطہ نہیں کرونگا، آر ایس ایس کی سوچ والوں سے رابطہ بے سود ہو گا، بھارت سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے ۔ وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے ممبر ممالک کے وزرائے خارجہ کیساتھ ٹیلی فونک رابطے کئے ۔انہوںنے جنوبی افریقہ ، سپین کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کے متوقع اعلیٰ عہدیدار برائے امور خارجہ جوزف بوریل اور دیگر اہم رہنمائوں کیساتھ بات چیت کی ۔شاہ محمود قریشی نے جنوبی افریقہ کی وزیر خارجہ ڈاکٹر نالیڈی پنڈور کومقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔نالیڈی پنڈور نے دیگر پارلیمنٹیرینز سے رابطہ کر کے جنوبی افریقہ کی پارلیمان سے متفقہ قرارداد لانے کا عندیہ دیا۔شاہ محمود نے سپین کے وزیر خارجہ اور یورپی یونین کے متوقع اعلیٰ عہدیدار کو بھی کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ سپین کے وزیر خارجہ نے کہا ہم صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں، انہوں نے سپین اور یورپی یونین کی جانب سے حتی المقدور کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا۔ وزیر خارجہ نے کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹینا فری لینڈ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ۔ دونوں رہنمائوں نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا ہندوستان ، مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے ۔بھارت نے یکطرفہ اقدام سے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دو چار کر دیا ہے ۔وزیر خارجہ نے کنیڈین ہم منصب کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے سیکورٹی کونسل کے اجلاس کے متعلق آگاہ کیا۔کنیڈین وزیر خارجہ نے کہا ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔کنیڈین وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کو دہرایا۔ وزیر خارجہ کی زیر صدارت وزارت خارجہ میںاہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میںمقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور ان کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے ماہرین کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے طویل مشاورت کی۔ وزیر خارجہ نے ویڈیو پیغام میںاوآئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے فی الفور کرفیو اٹھانے کے مطالبے کو بڑی سفارتی کامیابی قراردیتے ہوئے کہا کہ مظلوم کشمیریوںکی آواز پوری اسلامی دنیا کی متفقہ آواز بن چکی ۔