لاہور (محمد نواز سنگرا) پاکستان ٹیکس اتھارٹی کا قیام اور اصلاحات کے معاملے پر حکومت ان لینڈ ریونیو افسروں کو آن بورڈ لینے پر رضا مند ہو گئی۔ ایف بی آر کے خاتمے ، نئی ٹیکس اتھارٹی کے قیام، ٹیکس سسٹم میں اصلاحات، سول سرونٹ سٹیٹس یا خود مختار اتھارٹی، ہیومن ریسورس، نئی بھرتیاں، معاوضہ، آرگنائزیشنل سٹرکچر، مالی خود مختاری سمیت اہم معاملات پر ووفاقی حکومت نے ان لینڈ ریونیو افسروں سے رائے مانگ لی۔ ایف بی آر نے لاہور، کراچی اور راولپنڈی کے سنئیر افسروں پر مشتمل 3 کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ گریڈ 16 اور اس سے نچلے کے ملازمین کی رائے لینا بھی لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ کمیٹیاں 18 نومبر تک چئیرمین ایف بی آر کو رپورٹ کرنے کی پابند ہوں گی۔ حکومت ایف بی آر کو ختم کرکے نئی ٹیکس اتھارٹی قائم کرنا چاہتی ہے ۔ اس حوالے سے چئیرمین ایف بی آر کی طرف سے 3 اکتوبر کو ریفارمز ایجنڈ ا پیش کیا گیا جس پر ان لینڈ ریونیو سروس افسروں نے بھر پور احتجاج کیا کہ ان کی رائے بغیر ٹیکس اتھارٹی کا قیام قابل قبول نہیں ہے جس کے بعد ایف بی آر نے لاہور، راولپنڈی اور کراچی کے سنئیر افسروں کی زیر نگرانی 3 کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔ کراچی میں قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ چیف کمشنر ایل ٹی یو فیض الہٰی میمن ہوں گے ، جبکہ چیف کمشنر آر ٹی او تھری عامر علی خان تالپور، چیف کمشنر کارپوریٹ آر ٹی او آفتاب امام، چیف کمشنر ایل ٹی یو ٹوشاہد اقبال بلوچ اور چیف کمشنر آر ٹی او ٹو بدرالدین احمد قریشی کمیٹی کے اراکین ہونگے ۔ لاہور میں کمیٹی کے سربراہی چیف کمشنر سی آر ٹی او سید نوید حسین رضوی کریں گے جبکہ چیف کمشنر آر ٹی او ٹو احمد شجاع خان اور چیف کمشنر ایل ٹی یو عاصم مجید خان رکن ہونگے ۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے لئے کمیٹی کے سربراہ ڈی جی آئی اینڈ آئی عاصم احمد کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ چیف کمشنر راولپنڈی بشیر اللہ، چیف کمشنر سی آر ٹی او اسلام آباد شمس الہادی اور چیف کمشنر ایل ٹی یو اسلام آباد محمد نصیر بٹ کمیٹی کے رکن ہونگے ۔ ایف بی آر کی طرف سے کمیٹیوں کو متعدد ٹی او آرز دئیے گئے ہیں جن کے مطابق وہ اپنے ماتحت افسروں وملازمین سے آراء لے کر 18نومبر تک چئیرمین ایف بی آر کو آگاہ کریں گے ۔ ٹی او آر کے مطابق دریافت کیا گیا ہے کہ ٹیکس اتھارٹی کے قیام کے بعد افسروں و ملازمین وفاقی حکومت کے اٹیچ ڈیپارٹمنٹ کے طور پر اپنی حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں، وفاقی حکومت کے مطابق سیمی اٹانومس باڈی یا مکمل طور پر خود مختار ہونا چاہتے ہیں۔ ہیومن ریسورس سے متعلقہ معاملات جن میں نئی بھرتیوں، معاوضہ، کپیسٹی جبکہ مالی خود مختاری کے حوالے سے کیا آراء ہیں۔ٹی او آرز میں آرگنائزیشنل سٹرکچر ،کام کا طریقہ کار اور دیگر ایسی تمام آراء کو کہ ایف بی آر کے ملازمین یا افسران دینا چاہیں تو اس حوالے سے چئیرمین ایف بی آر کو آگاہ کیا جائے ۔