یوم پاکستان پر بھارتی وزیر اعظم کے خیر سگالی پر مبنی خط کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور مبنی پر تعاون تعلقات کے خواہاں ہیں۔وزیر اعظم نے جوابی خط میں ان ترجیحات کا ذکر بھی کر دیا جن پر دونوں ممالک مذاکرات کر کے باہمی تعلقات میں عشروں سے موجود کشیدگی ختم کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و استحکام کیلئے جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب تنازعات کا حل ہونا ضروری ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع کشمیر ہے‘انگریز نے برصغیر سے جاتے ہوئے جھگڑے کی ایسی فصل بوئی کہ آزادی کے بعد سے دونوں ریاستیں اپنے وسائل کا بڑا حصہ جنگی آلات و ٹیکنالوجی پر خرچ کر رہی ہیں۔دونوں کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر مسلسل حالات کشیدہ رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ کہ تاریخی طور پر بھارت نے تنازع کشمیر کو ہمیشہ الجھانے کی سفارتی و سیاسی کوششیں کیں۔1948ء میں جب پاکستان اور کشمیری حریت پسند پورے کشمیر کو بھارت کے ناجائز قبضے سے آزاد کرانے کے قریب تھے تو بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو اقوام متحدہ چلے گئے۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے جنگ بند کرانے کی درخواست کی۔سلامتی کونسل نے پاکستان کو جنگ بندی کے بدلے میں کشمیر کے منصفانہ حل کی ضمانت دی۔ اسی ضمانت میں بھارت کی یہ یقین دہانی شامل تھی کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ استصواب رائے سے کیا جائے گا۔بھارت کی بدنیتی کا آغاز یہیں سے ہو گیا جب استصواب رائے کے منصوبے کے مختلف مراحل کی جزیات اس طرح ترتیب دی گئیں کہ معاملہ التوا کا شکار ہو۔بھارت اقوام متحدہ میں اپنی پوزیشن بتدریج عالمی اداروں کے کردار کو کم کر کے معاملے کو دوطرفہ قرار دینے لگا۔ اگست 2020ء میں جب انتہا پسند مودی حکومت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا تو یہ عمل بھارت کے تمام بین الاقوامی معاہدوں اور بھارت نواز کشمیری رہنما شیخ عبداللہ سے کئے وعدوں کی خلاف ورزی قرار پایا۔ پاکستان نے 1948ء میں پرامن عمل پر اپنا بھروسہ ظاہر کر کے دنیا کو بتا دیا تھا کہ وہ جنگ کی بجائے مذاکرات پر یقین رکھتا ہے۔نریندر مودی حکومت نے مسلسل سرحدوں اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی رکھی۔بھارتی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تو وزیر اعظم مودی نے اسے اپنا قابل فخر کارنامہ بنا کر پیش کیا۔پاکستان نے اس صورتحال میں جواب کے طریقہ کار اور حجم کا پورا حساب کتاب رکھ کر اگلے دن جوابی کارروائی کی اور بھارت کے دو طیارے تباہ کر دیے۔یہ صورتحال جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتی تھی لیکن پاکستان نے گرفتار ہوا باز کو دو دن بعد رہا کر کے پیغام دیا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا صرف اپنا دفاع کر رہا ہے۔ بھارت نے ممبئی حملوں اور پارلیمنٹ پر حملے کے بعد گزشتہ برس پلوامہ حملے کی سازش رچائی۔ ان تمام واقعات کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ ہرطرح کے رابطے کم کر دیے حتیٰ کہ دونوں ممالک نے اپنے ہائی کمشنر واپس بلا کر معاملات نچلے درجے کے سفارت کاروں کے حوالے کر دیے۔سفارتی رابطوں کا درجہ کم کئے جانے سے مذاکرات کی ان کوششوں کو دھچکا پہنچا جن سے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لایا جا سکتا تھا۔ عمران خان وزیر بنے تو انہوں نے پہلی تقریر میں بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات کی خواہش ظاہر کی۔پہل کرتے ہوئے انہوں نے کرتار پور راہداری کھولنے اورمذاکرات کی پیشکش کی۔ یہ پیشکش دو سے زاید مواقع پر سامنے آئی لیکن بھارت نے اس کے جواب میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔ شاید بھارتی حکومت امریکہ کے ساتھ خطے میں نئی شراکت داری سے فائدہ اٹھا کر کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اپنی منشا کے مطابق طے کرنے کا سوچ رہی تھی۔ اس حکمت عملی میں اسے کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ امریکی سرپرستی میں اسے مسلسل افغانستان میں متحرک کردار ملا‘ اقوام متحدہ کی کئی کمیٹیوں کی سربراہی ملی جن کا تعلق افغانستان اور جنوبی ایشیا سے ہے لیکن بھارت نے پاکستان کی جانب سے کرتار پور جیسے بڑے منصوبے کے ہم پلہ تعاون کا مظاہرہ نہ کیا۔ یوں پاکستان کی خیر سگالی اور قیام امن کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکہ‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوششوں سے بھارت پاکستان سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے تیار ہے۔ شواہد سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں اب ان تینوں ممالک کے مفادات شامل ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستانی عوام دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے لئے کئے گئے اقدامات کی قدر کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ڈیڑھ سال سے مسلسل بھارتی محاصرے میں زندگی گزارنے والے کشمیری باشندوں کو عالمی ادارے کی قرار دادوں کے مطابق اپنی حیثیت کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ تنازع کشمیر خطے کی ترقی پر اثر انداز ہو رہا ہے دونوں ممالک پرامن بقائے باہمی کے اصول پر کاربند ہوئے تو جنوبی ایشیا جنگ سے محفوظ ایسا خطہ بن سکتا ہے جس کی ترقی پوری دنیا کے لئے مثال ہو گی۔