اقوام متحدہ ( ندیم منظور سلہری سے ) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے پاکستان مستقل طور پر اس پالیسی پر کاربند ہے کہ افغان تنازع صرف ایسے سیاسی تصفیے سے ختم ہوسکتا ہے جس میں افغانستان کے سیاسی منظر نامے کی مکمل عکاسی شامل ہو ، طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں، ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے ۔ دنیا تسلیم کر چکی ہے افغان مذاکرات کا آغاز پاکستان کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ بھارت خطے میں امن نہیں چاہتا،وہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر کی حیثیت سے افغان امن عمل کو پٹڑی سے اتارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیگا۔آج بھارت ریاستی دہشتگردی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ بھارت سی پیک میں رکاوٹیں پیدا کرنے کیلئے خفیہ طور پر دہشت گرد تنظیموں کو مالی اعانت اور تنظیم کو جدید ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے اور پاکستان میں حملے کرا رہا ہے ۔وہ ٹی ٹی پی اور جے یو اے کی مالی اعانت اور حمایت کررہا ہے یہ دونوں ہی پاکستانی فوج اور سویلین اہداف کیخلاف سرحد پار سے ہونیوالے دہشتگردانہ حملوں میں داعش کیساتھ تعلق رکھتے ہیں ۔