معزز قارئین!۔ آج21 فروری ہے اور آج پاکستان سمیت دُنیا کے کئی ملکوں میں ’’مادری زبانوں کا عالمی دِن ‘‘ (International Mother Language Day)منایا جا رہا ہے ۔ یوں تو قائداعظمؒ نے اُردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دِیا تھا لیکن، ابھی تک ہمارا کاروبارِ مملکت انگریزی زبان میں چل رہا ہے ۔ پاکستان کے چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ،پنجابی ، سندھی ، پشتو، بلوچی / براہوی اور کشمیری کے علاوہ کئی دوسری زبانیں بولی اور لکھی جاتی ہیں۔ یہ زبانیں ہمارے ولّیوں اور صُوفی شاعروں کی وجہ سے زندہ رہ گئی ہیں اور جب تک اِن زبانوں کو بولنے والے لوگ موجود ہیں یہ زبانیں زندہ رہیں گی۔ میرے والدین کی زبان پنجابی تھی اور میری بھی ہے لیکن، مَیں قومی زبان اردو اور سندھی، پشتو، بلوچی / براہوی اور کشمیری زبانوں کا بے حد احترام کرتا ہُوں۔ 2011ء میں مَیں نے پنجابی زبان کے فروغ کے لئے اخباری سائز پر "Four Colour" ماہنامہ ’’ چانن‘‘ جاری کِیا جو، دو سال بعد مجھے بند کرنا پڑا کہ ’’ پنجاب کے پڑھے لکھے لوگوں کو پنجابی سے کوئی دلچسپی نہیں ؟لیکن، مَیں اب بھی یہی کہتا ہُوں کہ… صُوفی شاعراں ، ولیاں نے ،جیوں دِتّا درس اِنسانی! عمل کرن تے اِک مُٹّھ رہسکدے نیں پاکستانی! …O… اُردو ، بلوچی، پشتو، سندھی، پنجابی ساڈی اے! جیہڑاں ینہاں نُوں مَیلی اَکھ نال ویکھے او پھاڈی اے! پنجابی زبان سے محبت یا غلط منصوبہ بندی کے باعث پنجاب کے تقریباً 15 ہزار ایم۔ اے پاس نوجوان ( خواتین و حضرات) بے روزگار ہیں ۔ اِس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا پنجاب حکومت؟ یا صِرف پنجابی زبان کے فروغ کے علمبردار ؟ ۔ مَیںنے 1956ء میں اُردو اور 1959ء میں پنجابی زبان میں شاعری شروع کی پھر 1960ء میں مسلک صحافت اختیار کِیا۔ میرا ذریعہ معاش اُردو صحافت بن گیا(جزوی طور پر ) اب بھی ہے ۔ مَیں کہتا ہُوں کہ … پنجابی ماں بوؔلی میری، مَیں صدقے ؔمَیں واری! پَر ،اُردو، ؔ میری دائی اَماّؔں ، میری پالن ہاری! مادری زبان ؔکو انگریزی میں "Mother Language" پنجابی میں ’’ ماں بولی‘‘ اور ہندی میں ’’ ماتر بھاشا‘‘ کہتے ہیں ۔ قیامِ پاکستان سے پہلے ہی پنجاب کے دانشوروں، شاعروں، صحافیوں اور اساتذہ نے اُردو زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کِیا ہے اور اہلِ زباؔن نے بھی ۔ پنجابی زبان کو ایک معیاری زبان قرار دِیا تھا ۔ کسی اُستاد شاعر کے بقول… سُنایا رات کو ، قِصّہ جو ، ہِیر رانجھے کا ! تو اہلِ درد کو ، پنجابیوں ؔنے لُوٹ لِیا! معزز قارئین!۔ مادری زبان ۔ تبدیل ہوتی رہتی ہے ۔ عرب اور ایران کے سادات کی زبان عربی / فارسی تھی لیکن جب وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگئے تو دو نسلیں گزرنے کے بعد اُن کی مادری زبان ۔ پنجابی، ہندی، بنگالی ، مراٹھی ، سندھی، بلوچی اور پشتو ہوگئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب، میرے والد صاحب تحریکِ پاکستان کے (گولڈ میڈلسٹ) کارکن رانا فضل محمد چوہان کی قیادت میں ہمارا خاندان پاک پنجاب کے شہر سرگودھا میںآباد ہُوا اور جب، مجھے اردوؔ سپیکنگ مہاجروں کے ایک سکول میں داخل کرایا گیا تو، مجھے اُردو بولنا نہیں آتی تھی۔ پھر آتی گئی۔ کسی بزرگ شاعر نے کہا تھا … کہ آتی ہے اردو زباں آتے ، آتے ! 1986ء اور پھر1987ء میں مجھے "Novosty Press Agency"کی دعوت پر دو بار (اب کالعدم) سوویت یونین کے دورے پر جانے کا اِتفاق ہُوا۔ نومبر 1988ء میں مَیں نے ’’ دوستی کا سفر‘‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’’ سوویت یونین کی ہر ریاست میں ابتدائی تعلیم مادری زؔبان میں دی جاتی ہے ۔ مڈل سے روسی زبان شروع ہو جاتی ہے اور "O Leval"کے بعد ہر طالب علم / طالبہ کو کسی بھی غیر مُلکی زبان کی طرف راغب کرنے کے لئے اُسے وظیفہ دِیا جاتا ہے ، اِس طرح ہر گریجوایٹ کو تین زبانوں میں مہارت ہو جاتی ہے لیکن، پاکستان میں اِس طرح کی منصوبہ بندی کبھی کی ہی نہیں گئی‘‘۔ معزز قارئین!۔ دسمبر 2004ء میں (اُن دِنوں ) وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی بھارتی پنجاب کے شہر پٹیالہ میں ’’عالمی پنجابی کانفرنس ‘‘ میں شرکت کے لئے گئے تو اُن کے ساتھ پنجاب کے شاعروں ، ادیبوں اور صحافیوں کی ٹیم کا میں بھی ایک رُکن تھا۔ 2 دسمبر 2004ء کو پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کے سائنس آڈیٹوریم میں پاکستانی اور بھارتی پنجاب کے چار ، پانچ سو شاعروں ، ادیبوں ، دانشوروں اور صحافیوں کا اجتماع تھا۔ پاک پنجاب اور بھارتی پنجاب کے مقررین کی تقریروں سے مجھے پتہ چلا کہ ’’ عالمی پنجابی کانفرنس‘‘ کا مقصد پنجابی زبان کی بنیاد پر پاکستانی اور بھارتی پنجاب کو ’’سانجھا پنجاب‘‘ بنانا ہے ۔ مَیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’1947ء میں نابھہ، پٹیالہ اور امرتسر میں میرے خاندان کے 26 افراد شہید ہُوئے تھے ۔ وہ سب پنجابی بولتے تھے ۔ پنجاب میں 10 لاکھ مسلمانوں کو شہید کِیا گیا تھا۔ پنجاب کی سرحدی لکیر میں میرا خون شامل ہے ۔ مَیں پاک پنجاب اور بھارتی پنجاب میں خوشگوار تعلقات کے قیام کے لئے اپنے خاندان کے 26 افراد کا خون تو معاف کرسکتا ہُوں لیکن ( پھر مَیں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہُوئے کہا کہ ) ۔ ’’ مَیں پنجاب دی سرحدی لکیر نئیں مِٹن دِیاں گا‘‘۔ ہال میں اُداسی چھا گئی۔ سِکھ ، دانشور اپنی پنجابی کو ’’ گُر مکھی ‘‘ (گُرو کے منہ سے نکلی ہُوئی زبان ) اور پاکستانی پنجابی کو ’’ شاہ مکھی‘‘ (بادشاہوں کے مُنہ سے نکلی ہُوئی زبان ) کہتے تھے /ہیں ۔مَیں نے کہا کہ ۔ ’’پاکستانی پنجابی ہمارے ولیوںکی زبان ہے اور عوام کی بھی ، مَیں آج پاکستانی پنجابی کو ’’ لوک مکھی ‘‘ یعنی عوام کی زبان کا نام دیتا ہُوں‘‘۔ سانجھے پنجاب کے علمبردار سِکھ اور پاکستانی دانشوروں کے لئے یہ ایک بڑا صدمہ تھا لیکن بھارتی نیوز چینلوں اور گُرو مکھی (پنجابی) اور ہندی اخبارات میں میرے حوالے سے ’’ لوک مکھی پنجابی‘‘ کا چرچا ہُوا۔ معزز قارئین!۔ پاک پنجاب میںبولی اور لکھی جانے والی پنجابی ، پنجاب کے عوام کی زبان کیوں نہیں بن سکی؟۔ اِس لئے کہ عرصہ دراز سے پاک پنجاب کے بہت سے پنجابی شاعر ، ادیب، دانشور، اور صحافی سِکھوں کو خُوش کرنے کے لئے پاک پنجاب میں بولی اور لکھی جانے والی پنجابی میں گُر مُکھی ( سِکھی پنجابی ) کے نامانوس الفاظ شامل کرتے رہتے ہیں۔ اگست 2011ء میں کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں گُر مکھی (پنجابی) کے ہفت روزہ ’’ اجیت‘‘ کے مالک (آنجہانی ) سردار درشن سِنگھ بینس اور اُن کے برادر نسبتی سردار عجائب سِنگھ چٹّھہ کے زیر اہتمام منعقدہ ’’عالمی پنجابی کانفرنس‘‘ میں پاک پنجاب کے کئی شاعر، ادیب، صحافی اور دانشور بھی شریک تھے ۔ کانفرنس میں پنجابی زبان کا ’’ مشترکہ جھنڈا‘‘لہرایا گیا اور ایک قرارداد منظور کی گئی کہ ’’ پاک پنجاب اور بھارتی پنجاب کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا بورڈ بنا کر اتفاق رائے سے ، پنجابی زبان میں سے عربی، فارسی ،اردو اور ہندی زبان کے الفاظ نکال دئیے جائیں ‘‘۔ 23/22 نومبر 2011ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بھی ’’عالمی پنجابی کانفرنس‘‘ کا ڈھونگ رچایا گیا۔ آنجہانی سردار درشن سِنگھ بینس ، سردار عجائب سِنگھ چٹّھہ اور دوسرے سِکھ دانشوروں کو سٹیج پر بٹھایا گیا اور اُن کے ساتھ تقریب سے پہلے اور بعد میں بھی دامادوں اور بہنوئیوں کا سا سلوک کِیاگیا ۔ مَیں نے کئی بار کہا اور لکھا کہ … اِک مِکّ نئیں کر سکدا کوئی، گولانہ کوئی گولی! وکھری پاک پنجاب دی بولی، وکھری سِکھّی بولی! معزز قارئین!۔نیویارک، لندن میں میرے 5پوتے اور 2پوتیاں ہیں ۔ اُن کے والدین ( جن کی مادری زبان پنجابی ہے) ایک دوسرے سے پنجابی میں گفتگو کرتے ہیں لیکن، بچوں سے اردو اور انگریزی میں ۔ مَیں جب بھی چھٹیاں منانے کے لئے وہاں جاتا ہُوں تو، اپنے پوتے اور پوتیوں کو پنجابی زبان سِکھاتا ہُوں لیکن، مجھے نہیں معلوم کہ آئندہ چل کر اُن کی مادری زبان کیا ہوگی؟ اور ہاں! مَیں بیرون پاکستان ہر پاکستانی سے اردو میں بات کرتا ہُوں اور اُن کے سامنے اپنے بیٹے اور بہوں سے بھی ۔ وطن سے باہر میری پہچان ہمیشہ ’’ اردو سپیکنگ پاکستانی‘‘ کی ہوتی ہے ۔ میرا عقیدہ ہے کہ … ماں بولی پنجابی میری، قومی زبان اے اُردو! جدوں وطن توں باہر جاواں ، میری پَچھان اے اُردو !