لاہور(جوادآراعوان) پنجاب حکومت کے خلاف سرگرم تحریک انصاف کے ارکان صوبائی اسمبلی سے متعلق خفیہ رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھیج دی گئی۔اعلیٰ حکومتی عہدیداران نے پنجاب حکومت کے خلاف سرگرم تحریک انصاف کے ارکان صوبائی اسمبلی کے حوالے سے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ ایک ٹاپ سول انٹیلی جنس ایجنسی نے متعلقہ ممبران کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک خفیہ رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھیجی جس میں بتایا گیا ہے کہ مسائل کے حل کی یقین دہانی کے باوجود صوبائی حکومت پر بے جا دبائو بڑھانے کی سوچی سمجھی کوشش کی جارہی ہے جسکا مقصد اپنے متعلقہ حلقوں میں اپنی مرضی کے افسران کو تعینات کروانا اور زیادہ ترقیاتی فنڈز حاصل کرنا ہے ،انکے مطابق صوبائی حکومت کے خلاف سرگرم اصل ارکان تحریک انصاف کی تعداد 10 سے کم ہے جبکہ وہ دبائو بڑھانے کے لئے 20 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں،ان میں 2سے 3 ارکان زیادہ متحرک ہیں جبکہ باقی پس منظر میں رہتے ہیں،متعلقہ ممبران صوبائی اسمبلی میڈیا کے ذریعے حکومت کے خلاف پراپیگنڈہ اور افواہیں پھیلانے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خفیہ رپورٹ جائزے کے لئے وذیر اعظم کو بھی بھیجی جائے گی،وزیراعظم پنجاب حکومت کے خلاف سرگرم ارکان کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک سے زائد ذرائع سے انفارمیشن حاصل کرنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ،وزیر اعظم یہ جاننا چاہتے ہیں کیا پنجاب حکومت کو واقعی کسی خطرے کا سامنا ہے اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے کتنے ارکان صوبائی اسمبلی ذاتی مفادات کے لئے صوبائی حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں ناراض ارکان پر مشتمل ہم خیال گروپ میں غضنفر عباس،محمد علی رضاخان خاکوانی،مامون تارڑ،خواجہ محمد داؤد سلیمانی، محمد عامر عنایت شہانی، محمد احسن جہانگیر، صاحبزادہ غزین عباسی، تیمور علی لالی، غضنفر عباس شاہ، سردار محی الدین کھوسہ،سردار شہاب الدین خان اور محمد اعجاز حسین شامل تھے ۔