لاہور(محمد نواز سنگرا)صوبہ میں تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔آرڈیننس کے مطابق تمام امورچلانے کی ذمہ داری بورڈ کو تفویض کی گئی ہے ۔16رکنی بورڈ کے چیئرمین وزیر اعلیٰ پنجاب جبکہ وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ وائس چئیرپرسن ہوں گے ۔اس کے علاوہ وزیر خزانہ،چیف سیکرٹری پنجاب ،پراجیکٹ سے متعلقہ وزیر،چیئرمین پی اینڈ ڈی،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،سیکرٹری فنانس،سیکرٹری قانون،لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا نمائندہ،تین ایکسپرٹس،پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کا سی ای او،ممبر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پی پی پی اور اتھارٹی کا چیئرمین ممبر ہو گا ۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بورڈ تمام فیصلے کرنے کا مجاز ہو گا ،اتھارٹی کی طرف سے بھجوائے گئے کیسز کی حتمی منظور ی بورڈ دے گا ۔معیار پر پورا نہ اترنے والے کیسز واپس جبکہ تین کروڑ سے زائدفنڈنگ کے کیسز کی منظوری کا اختیار محض بورڈ کے پاس ہو گا۔تین ماہ میں بورڈ کی ایک میٹنگ ضروری،چیئرمین یا وائس چیئرمین کسی بھی وقت اجلاس بلاسکتے ہیں جبکہ اتھارٹی کے تین چوتھا ئی ممبران بھی بورڈ میٹنک کے لئے درخواست بھیج سکتے ہیں۔بورڈ سرکار کی طرف سے فنڈ کی حد کا تعین کرے گا۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سیل تمام انتظامی اور سیکرٹریٹریل سپورٹ د ے گا اور پبلک پرائیویٹ پاٹنرشپ کے تمام آپریشنز کی مانیٹرنگ کرے گا۔تمام فزیبلٹی رپورٹس،کاروباری اور مالیاتی ماڈلز اور پی پی پی معاہدے ڈرافٹ کرے گا۔سالانہ ضروریات اور ادائیگیوں کے حوالے سے رسک منیجمنٹ یونٹ کی رہنمائی کرے گا۔پی پی پی سیل پراجیکٹس کی مانیٹرنگ اور بورڈ کی طرف سے تمام اسائمنٹ کو پوری کرے گا۔