لاہور(قاضی ندیم اقبال) صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے 55ارب روپے کرونا کے حوالے سے مختص کرنے کیساتھ وفاقی حکومت سے ٹیکس چھوٹ مانگ لی جبکہ وزیر اعظم نے صوبائی حکومت کے ذمہ داران کو ہمدردانہ غور کرنے اور مشکل کی گھڑی میں وفاقی حکومت کی جانب سے مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ۔معتبر اور مصدقہ ذرائع کے مطابق کرونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں پنجاب حکومت کی جانب سے ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور سے صوبائی وزیر خزانہ ، چیف سیکرٹری پنجاب، چیئر مین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈاور سیکرٹری خزانہ پنجاب شریک ہوئے ۔صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پنجاب نے رواں مالی سال2019-20 کے ترقیاتی بجٹ میں سے ابتدائی طور پر 55ارب روپے کرونا وائرس کے معاملات کیلئے ٹرانسفر کرنیکا فیصلہ کیا ہے ، یہ رقم جون تک تین ماہ میں ٹرانسفر کی جائیگی۔عوام الناس کو ریلیف کی غرض سے لاک ڈائون کے دوران بھی چیف سیکرٹری پنجاب کے دفتر سمیت بعض ادارے کھلے رہیں گے جن میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، خزانہ ، داخلہ ، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ، سپیشلائزڈ ہیلتھ شامل ہیں ، مقامی حکومتوں کے بعض دفاتر بالخصوص واسا دفاتر بھی کھلے رہینگے ۔صوبائی حکومت کے ذمہ داروں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ کرونا وائرس کے پیش نظر پنجاب کو ٹیکسز کی وصولی کے اہداف حاصل نہیں ہونگے ۔لہٰذا ضروری ہے کہ پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، سمیت پنجاب ریونیو اتھارٹی کی وساطت سے اکٹھے کئے جانیوالے دیگر ٹیکسزکی مد میں وفاق کی جانب سے پنجاب کی مدد کی جائے ۔ وفاقی حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر فیلڈز سے وابستہ افراد کو خصوصی رعایت دینے کی پالیسی بھی وضع کرے تاکہ پنجاب حکومت کو آئندہ مالی سال2020-21میں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔