لاہور(انور حسین سمرائ) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے وزیراعظم پاکستان کے الٹی میٹم کے بعد صوبے میں جاری تھانہ کلچر، جعلی پولیس مقابلوں اور فورس میں بلا تخفیف کرپشن کے خاتمے کے لئے یکم ستمبر سے خیبر پختونخواہ ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کاآغاز لاہور سے ہوگا۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عارف نواز خان نے وزیر اعظم کی طرف سے دیئے گئے الٹی میٹم کے جواب میں چیف سیکرٹری پنجاب کو لکھے گئے مراسلے میں موقف اپنایا گیا ہے کہ کے پی کے میں متبادل تنازع ریزولوشن میکنیزم کی کامیابی کے بعد پنجاب پولیس نے پولیس آرڈر2002 میں ترمیم اور ضلعی سطح پر تنازع ریزولیشن کمیٹی بنانے کے لئے قانون سازی کے لئے صوبائی حکومت کو تجاویز بھجوا دی ہیں۔ پنجاب پولیس اپنی صلاحیت و تربیت میں بہتری کے لئے خیبر پختونخواہ ماڈل پر سکول آف انوسٹی گیشن کا آغاز یکم ستمبر سے لاہور میں کررہی ہے جس میں ابتدائی طور پر 200تفتیشی افسران کو تربیت دی جائے گی۔ تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے پولیس سٹیشن پراجیکٹ کی نظر ثانی کے بعد 50تھانوں میں بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ ایک سینئر پولیس افسر نے رابط کرنے پر بتایا کہ آئی جی پنجاب نے اپنے خط جن اقدامات کا ذکر کیا ، ان سے پولیس کی پرفارمنس میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ ئے گی کیونکہ صوبے میں جرائم کے گراف اور عوامی شکایات میں اضافہ ہوا ، خط میں جو یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں ان پر عمل ناممکن لگتا ہے ۔