واپڈا کے بجلی گھروں سے گزشتہ رات نیشنل گرڈ کو 8ہزار 854میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی جو 2021میں پن بجلی کی سب سے زیادہ پیداوار ہے۔ پاکستان میں بجلی کی پیدواری صلاحیت 35ہزار میگاواٹ جبکہ طلب 24ہزار میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔ جس میں پن بجلی کا حصہ محض 30فیصد ہے ۔ حکومت کو ملکی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نجی بجلی گھروں کی مہنگی بجلی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ حکومت آئی پی پیز سے 26روپے فی یونٹ بجلی خرید کر 300یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 13روپے فی یونٹ فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ 17فیصد لائن لاسز کا بوجھ بھی حکومت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسی سبب گردشی قرضے 23سو ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات پاکستان کے توانائی کے بحران کے حل کے لیے حکومت کو سستی پن بجلی اور متبادل ذرائع اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے ہر سال دس ڈیم بنانے کااعلان بھی کیا ہے۔ حکومت پہلے ہی داسو اور دیا میر بھاشاڈیم پر کام شروع کر چکی ہے جس سے ملکی پیداوار میں پن بجلی کا حصہ42فیصد تک ہو جائے گا ۔واپڈا کے مطابق پاکستان میں پن بجلی پیدا کرنے کی استعداد ایک لاکھ میگا واٹ ہے۔ بہتر ہو گا حکومت مستقبل میں نا صرف پن بجلی کے منصوبوں کو ترجیح دے بلکہ زیر تعمیر ڈیمز کی بروقت تکمیل کو بھی یقینی بنائے تا کہ پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سستی بجلی میسر آئے اور توانائی کا بحران ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔