لاہور(نامہ نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ قاسم خان نے ریمارکس دئیے ہیں پولیس ملک میں قبضہ گروپ بن گئی ہے ، پولیس قبضہ گروپ بن جائے گی تو موٹروے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔چیف جسٹس نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی زمین پرپولیس کے قبضے کے خلاف درخواست کی سماعت کی اور قرار دیا کہ پولیس گندے انڈوں کو نکال باہر کرے اور افسروں کو معاف کرنے کی روش چھوڑ دیں۔چیف جسٹس قاسم خان نے آئندہ سماعت پر آئی جی پنجاب کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کے تبادلے کے خلاف لیگی رہنما ملک احمد خان کی درخواست قابل سماعت قراردیتے ہوئے وفاقی،صوبائی حکومت، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے سینئرپولیس افسروں کو ہر ضلع میں روزانہ دو گھنٹے رات کو گشت کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں صوبے کے لوگوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے ۔فاضل جج نے میاں آصف محمود اور ندیم سرور ایڈووکیٹ کی لنک روڈ اجتماعی زیادتی معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگر رپورٹ سمیت عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا بتائیں آئی جی پنجاب روزانہ کتنے دن،کتنے گھنٹے کہاں اور کس وقت گشت کریں گے ، رات 11 سے 1 بجے ہر ضلع میں ایک سینئر افسر روڈ پر ہونا چاہئے ۔پولیس کا پرانا پیٹرولنگ سسٹم فیل ہو گیا ،اگر میں چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنی عدالت میں کام نہ کروں تو ماتحت عدلیہ سے کام نہیں لے سکتا،وائر لیس پر افسر بتاتا ہے کہ فلاں چوک میں ڈیوٹی پر ہے جبکہ وہ افسر گھر بیٹھاکھانا کھا رہا ہوتا ہے ،وکلا اس نکتے پر معاونت کریں کہ اگر سرکاری پراپرٹی پر قتل ہو جائے تو کیا حکومت کو دیت کی رقم دینی چاہئے ۔ عدالت نے فریقین کے وکلاکو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے شہری شکیل کو ہراساں کرنے کیخلاف درخواست میں ایس پی ماڈل ٹاؤن کی غلط رپورٹ پرسخت اظہار برہمی کیااورآئی جی پنجاب کو ایس پی کیخلاف انکوائری کا حکم دیدیا،عدالت نے کہااگر آئی جی انکوائری نہ کرسکے تو اتھارٹی کو حکم جاری کریں گے ، چیف جسٹس نے ایس پی ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ میں غلطی پکڑ لی اور کہاایس پی لیول پر اس قسم کی نااہلی کی بدترین مثال ہے ، حیرت ہے پانچ ملزمان کی بغیر تصدیق ایک ہی ولدیت اور ذات لکھ دی، رپورٹ فائل کو پڑھے بغیر بنائی گئی، عدالت نے آئی جی پنجاب سے انکوائری رپورٹ دو ہفتے میں طلب کر لی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر کامونکی انٹر چینج بنانے کیلئے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کوقانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔لاہور ہائیکورٹ نے چینی شہریوں کی جانب سے کورٹ کے اندر ویڈیو بنانے کے معاملہ پر ریمارکس دئیے کیا چینی شہری اپنے ملک میں عدالتوں کی ویڈیو بناتے ہیں، عدالت نے موبائل فون کو اچھی طرح چیک کرنے کی ہدایت کی اور کہا موبائل چیکنگ کے لیے ماہر کی خدمات لی جائیں،موبائل فون میں اگر کوئی ملکی مفاد کے خلاف مواد ہے تو اسے ضبط کر لیا جائے ۔