لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا کراچی آنے کا مقصد کاروباری برادری کے تحفظات کو دورکرنا تھا۔پروگرام 92ایٹ 8 میں میزبان سعدیہ افضال سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ ہم مل کر چلیں ۔ وزیراعظم کے دورے کے موقع پر آٹھ سیشن ہوئے جس میں تمام کاروباری حضرات تھے ۔ عمران خان کے پاس کراچی کیلئے وقت ہی وقت ہے ۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے انہوں نے وہاں پر کام کرنا ہے لیکن یہ بتائیں کہ انہوں نے دس سال میں کیا کیا ہے اورانہوں نے کراچی کو کیا دیا ہے ۔چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا حکومت کو کاروباری طبقے کیلئے تھوڑی لچک دکھانی چاہئے ۔میں کہتا ہوں ہر شخص کو ٹیکس دیناچاہئے لیکن سارے لوگوں سے ایک ہی وقت میں ٹیکس لینامشکل ہوگا ۔میں نے وزیراعظم سے کہا ٹیکسٹائل والوں سے سیٹلمنٹ کرلیں تاکہ گاڑی آگے چلے ۔اگرحکومت چاہے کہ ہر کوئی اوور نائٹ ٹیکس دیدے ایسا نہیں ہوسکے گا ۔ ہمارا مطالبہ ہے جب کراچی والے زیادہ ریونیودیتے ہیں تو انہیں کیوں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا ہے ۔ ایف بی آر میں ایک ایسی فورس بھی ہے جو عمران خان کو فیل کرنا چاہتی ہے اسلئے جلد ا صلاحات کرنا ہونگی۔پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا وزیراعظم کو چاہئے تھا وہ دورہ کراچی کے موقع پروزیرا علی سندھ کو بھی بلا لیتے اوردل بڑا کرتے ، انہیں چاہئے کہ وہ سرمایہ کاروں اور بزنس مین کو اعتماد میں لیں ،ان کے مطالبات پر غور کریں۔ حکومت یہ بتائے انہوں نے جو ٹیکس ریونیو جمع کیا ہے اس میں ایک ہزار ارب کی کمی ہے تو کیا یہ لوگوں کا ان پر عدم اعتماد نہیں ہے ۔ ایم کیوایم کے رہنما امین الحق نے کہا ہم وزیراعظم کے دورہ کراچی کو خوش آئند سمجھتے ہیں، امیدہے ان کی آمد کا مثبت نتیجہ نکلے گا ۔عمران خان کا جذبہ اورنیت درست ہے ،وہ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ وفاق تو کراچی کو 162 ارب روپے دینے کو تیار ہے لیکن سندھ حکومت کراچی اورحیدرآباد کو پانی کی بوندبوند کیلئے ترساناچاہتی ہے ۔