اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ ایف بی آر ٹیکسوں اور کسٹم کیسوں کے ٹربیونلز کو ٹائم فریم کا پابند کرنے کے لئے قانون سازی کریں ایف بی آر حکام نے انکشاف کیا کہ مہران انڈسٹری کا 221ملین روپے کاایک ایسا بھی کیس ہے جو 10سال سے ٹربیونل میں زیر التوا ہے ۔ 7سال سے ٹربیونل میں سماعت ہی نہیں ہوئی ۔ کمیٹی نے تیار ی نہ کر کے آنے پر ایف بی آر کے حکام پر برہمی کا اظہار کیا ۔ رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہاہے کہ نان فائلر کی معلومات میڈیا پر دی جاتی ہے مگر ہمیں آگاہ نہیں کیا جاتا۔ اجلاس کنوینر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا ۔ اجلاس میں ایف بی آر اور ریونیو ڈویژن سمیت دیگر امور کا جائزہ لیا گیا ۔ کمیٹی نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکسوں اور کسٹم سے متعلق کیسوں کے حوالے سے ٹربیونلز کو ٹائم فریم کا پابند کرنے کے لئے قانون سازی کرے ، تعاون کریں گے ۔ کمیٹی نے ٹمپرڈ گاڑیوں کو سپرداری پردینے یا ان کو کسی صورت نکالنے کیلئے طریقہ کار طے کرنے کی ہدایت کردی۔ ذیلی کمیٹی نے ریونیو ڈویژن کے 3 ارب 39 کروڑ روپے مالیت کے 11آڈٹ پیرازنمٹادیئے جبکہ ڈی ایچ اے میں ای او بی آئی کی 1440ملین کی سرمایہ کاری کے عوض پلاٹس نہ ملنے کے معاملے میں سیکرٹری وزارت سمندرپار پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کو 7یوم کے اندر انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔