ملتان (سپیشل رپورٹر؍ مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان اور بہاولپور میں ہوگا، پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو خواہش کے باوجود صوبہ جنوبی پنجاب پر پیش رفت نہیں کر سکیں، مسلم لیگ (ن) نے صوبے کے قیام پر تفریق پیدا کی، میری خواہش ہے کہ جنوبی پنجاب کے لئے الگ پبلک سروس کمیشن قائم کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سرکٹ ہاؤس ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ایک عنصر ہے جسے میں جانتا ہوں، وہ سیکرٹریٹ کے قیام میں مسائل پیدا کر رہا ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی نیت خراب نہیں تھی ۔انہوں نے کہا جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ چھوٹی چیز ہے جبکہ اصل صوبے کا دارالخلافہ ہے ، جنوبی پنجاب کے دارالحکومت کا فیصلہ صوبہ جنوبی پنجاب کی پہلی منتخب اسمبلی کرے گی ۔شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ نہتے کشمیریوں کی آواز ہر فورم پر اٹھارہے ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کل پاکستان آرہے ہیں ،ان کے سامنے کشمیر کا مقدمہ رکھیں گے ،ایف اے ٹی ایف(فیٹف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے پاکستان نے بہترین اقدامات کئے ہیں ، بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کر انے کے لئے کوششوں میں لگا ہوا ہے ، اگر بھارت اس میں کامیاب ہوگیا تو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت 10 سال برسراقتدار رہی، اگر نیب قوانین میں خامیاں تھیں تو درست کیوں نہیں کی گئیں؟ اب وہ نیب قوانین میں ترمیم کے لئے ہم سے توقع کر رہے ہیں اور ہم بھی تیار ہیں، نیب و دیگر قوانین میں ترمیم کیلئے 24 رکنی کمیٹی کا اجلاس کل اسلام آباد میں ہوگا۔انہوں نے کہا 30 جولائی تک پاکستان میں 12 لاکھ کے قریب کورونا کے مریض ہونا تھے اور 50 ہزار اموات کا خدشہ تھا، سمارٹ لاک ڈائون کا منصوبہ کار آمد ثابت ہوا جس پر اب دنیا میں عمل کیا جارہا ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق شاہ محمود نے کہا کہ کرپشن فری پاکستان سب کی ضرورت ہے ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ 10 سال تک نیب قوانین میں بہتری نہیں لاسکیں، گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے قانون سازی ضروری ہے ، ایف اے ٹی ایف، نیب قوانین میں ترامیم کے بلز اپوزیشن کو بھیج دیئے ہیں۔