کم و بیش نصف صدی پہلے جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی تب چاند پر قدم رکھنے میں سبقت کا مقابلہ بھی انتہائی دلچسپ مرحلے میں تھا۔اس وقت چاند پر قدم رکھنے کی یہ دوڑ سائنسی یا تحقیقی پہلو سے زیادہ ایک بلاک کا دوسرے بلاک پر برتری دکھانے کیلیے اہم تھا۔ اس لیے ان مہمات کا محور و مرکز ہمیشہ سب سے پہلے چاند پر قدم رکھنے تک ہی محدود رہا۔ اِس وقت اسی طرح کا مقابلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوچکا ہے اور ایک اہم فرق یہ ہے کہ اس وقت امریکہ کے مقابلے میں سویت یونین کی جگہ چین ہے اور یہ محض قدم رکھنے کی جنگ نہیں بلکہ قدم جمانے کی جنگ ہے۔ اس مقابلے میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ پچھلے ہفتے امریکی سرکاری خلائی کمپنی ناسا نے چاند کی طرف ایک تجرباتی سپیس کرافٹ بھیجا ہے، جس کا مقصد چاند کے مدار میں پہنچ کر واپس زمین تک آنا ہے۔ اس سپیس کرافٹ پر اس بار کوئی شخص سوار نہیں مگر پھر بھی اس کا کامیاب ہونا انتہائی لازمی ہے تاکہ ناسا اپنی منصوبہ بندی کے مطابق دو ہزار پچیس تک چاند پر انسان بھیجنے کے قابل ہو۔ اتنے سالوں کے بعد چاند پر دوبار امریکی توجہ کی کئی وجوہات ہیں، ان میں سے سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ فروری دو ہزار تین کے کولمبیا حادثے (جب ناسا کا ایک سپیس شٹل گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس کے نتیجے میں سٹل میں سوار سات کے سات خلاباز ہلاک ہوئے) کے بعد ناسا نے خلا میں جانے کے طریقوں پر ازسر نو غور کرنا شروع کیا تھا اور ماضی کی تحقیقات و نتائج کو پیچھے چھوڑ کرنئے سرے سیسپیس کرافٹس کی تیاری شروع کی تھی۔ ان تیاریوں میں چونکہ بالکل بنیاد سے ہی بہت سی چیزوں پر تحقیق کرنے کی ضرورت تھی، اس لیے کسی قابل استعمال نتیجے تک پہنچنے کیلیے دہائیاں لگ گئیں۔ اس طرح کے پروجیکٹس پر اتنا وقت لگنا معمول کی بات ہے اور اس کا اندازہ لگانے کیلیے یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ دوہزار تین میں ہی ناسا نے جیمز ویب پروجیکٹ کا آغاز کیا اور وہ بھی آج سے تقریبا صرف ایک سال پہلے مکمل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ چین کی کئی دہائیوں سے چاند پر توجہ مرکوز ہے اور اس کے نتیجے میں امریکہ کو یہ خدشہ لاحق ہو رہا ہے کہ کہیں چین یہ دعویٰ ہی نہ کرنے لگے کہ چاند کے اوپر صرف چین کا حق ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اپنے عوام اور نئی نسلوں کے ذہن میں کوئی ایسا تاثر بھی پیدا نہیں ہونے دینا چاہتا کہ جس سے انہیں کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں کسی قسم کی کمتری کا احساس ہو۔ چاند کا ایک مرتبہ پھر ناسا کی توجہ کا مرکز بننے کی ایک اور وجہ نجی خلائی کمپنیوں جیسے ایلون مسک کی سپیس ایکس یا ایمازون کے مالک جیف بیزوس کی بیلیو اوریجن بھی ہیں۔ ناسا نے اگرچہ ان کمپنیوں کی بہت امداد بھی کی جس سے ناسا کو فائدہ ہوا مگر اب ناسا کو یہ خوف بھی ہے کہ اگر اس نے ہر قسم کے خلائی مہمات کی طرف توجہ نہ دی تو شاید نجی کمپنیاں اس سے آگے نکل جائیں یا ناسا کے وجود کو ہی چیلنج کریں۔ ان پہلوؤں کے علاوہ چاند پر جانے کے کچھ سائنسی اور تحقیقی پہلو بھی ہیں۔ سب سے پہلی اہم بات تو یہ ہے کہ مریخ پر کامیابی کے ساتھ لوگ پہچانے اور رہنے کیلیے لازمی ہے کہ پہلے یہ سب سرگرمی چاند پر کی جائے۔ مریخ کے مشنز کی کامیابی کیلیے لازمی ہے کہ چاند تک آمدورفت کے مشن انتہائی محفوظ اور ہر لحاظ سے کامیاب ہوں۔ اگر چاند پر جانے کے معاملے میں کوئی پریشانی پیش آتی ہے تو یہ ازخود اس بات کیلیے ثبوت ہے کہ ابھی ہم مریخ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس کے علاوہ ماضی کے مشنز نے جب چاند کی سطح سے پتھر کے نمونے جمع کیے تو اس سے سائنسدانوں نے چاند کے ماخذ کے بارے میں کچھ اندازے لگائے۔ ابھی تک کے اندازوں کے مطابق چاند کے وجود میں آنے کی وجہ چار ارب سال پہلے مریخ کے سائز کی کسی چیز کا زمین کے ساتھ ٹکرانا تھا۔ اس ٹکرانے کی وجہ سے زمین کا کچھ حصہ الگ ہوا اور اس نے چاند کی شکل اختیار کر لی۔ یہ پہلو زمین کے حوالے سے بھی بہت دلچسپ اور اہم ہے اس لیے ناسا کا خیال ہے کہ اس مشن کے ذریعے زمین کو لاحق خطرات کے بارے میں آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ماضی کے مشنز سے یہ اندازہ بھی لگایا کیا تھا کہ چاند پر پانی یا برف کی موجودگی کے آثار ملے ہیں اس لیے ناسا کو یہ بھی توقع ہے کہ اس مشن کے ذریعے وہ اس خیال کی مزید چھان بین کر سکیں گے۔ برف یا پانی کی موجودگی سے یہ بات ممکن ہو سکے گی کہ سیاروں تک رسائی یا خلائی مشنز کیلیے چاند کی سطح پر بیس کیمپ قائم کرنے میں پیش رفت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر برف کے یہ آثار پانی کی بجائے کسی اور چیز کے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایسی چیز مل جائے جو سپیس کرافٹ کو درکار ایندھن کے طور پر استعمال کی جا سکے۔ اس طرح کے خلائی مہمات چونکہ انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں اور ان کی کامیابی کیلیے کئی جہتوں سے تحقیق کرنی پڑتی ہے اس لیے ان مہمات کے نتیجے میں کچھ مزید ضمنی ایجادات بھی سامنے آتی ہیں، جن سے خلائی مشن پر جانے والوں سے زیادہ عام آدمیوں کی زندگیوں میں بھی مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔ مثلاً آج ہمارے پاس رابطوں کے جو جو ذرائع موجود ہیں، ان سب میں کہیں نہ کہیں ماضی کے خلائی مہمات کی تحقیق کا استعمال ہے۔ اسی طرح ہوا بازی کی صنعت کے محفوظ اور آسان ہونے میں بھی خلائی مہمات کیلیے کی جانی والی تحقیقات کا انتہائی اہم کردار ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ خلا میں جانے کی ضروریات کو پوار کرنے کیلیے کئی اس طرح کے میٹریل بنائے گئے جو آج صحت کے شعبے کی انتہائی اہم مشینوں جیسے ایم آر آئی اور سی ٹی سکین وغیرہ میں استعمال ہو رہے ہیں۔ خلائی مہمات کی اس کے علاوہ بھی ان گنت وجوہات اور مقاصد ہیں جن کی وجہ سے ایک دفعہ پھر ان مہمات میں تیزی کی توقع ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہوگی کہ اس بار یہ مقابلہ مکمل طور پر صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ اس میں جاپان، چین، جنوبی کوریا، روس، انڈیا، متحدہ عرب امارات اور امریکہ چھے ممالک شامل ہیں۔