چمن میں مال روڈ ڈی پی او آفس کے قریب بم دھماکہ میں 6افراد شہید اور 21زخمی ہو گئے۔ نامعلوم دہشت گردوں نے بم موٹر سائیکل پر نصب کر رکھا تھا جونہی اینٹی نارکوٹکس کی گاڑی قریب سے گزری دہشت گردوں نے دھماکہ کر دیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دشمن ایک مرتبہ پھر بلوچستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں ،گذشتہ دو ماہ میں متعدد ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے چمن کو اپنا خصوصی ہدف بنا رکھا ہے۔ کبھی یہاں پاکستانی پرچم کو نذر آتش کر کے اس کی توہین کی جاتی ہے اور کبھی باہمی جھگڑوں کو بنیاد بنا کر دہشت گردی کی جا رہی ہے۔ افغان باشندے بغیر سفری دستاویزات کے ان علاقوں میں آتے جاتے ہیں‘ ایسا لگتا ہے کہ انتظامیہ یرغمال بن کر رہ گئی ہیں‘ ہجوم میں لوگ اسلحہ لئے پھرتے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ چمن کے راستے پاکستان میں آمدورفت کو سختی سے روکا جانا چاہیے ورنہ آئندہ بھی ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چمن کے موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سرحدی چوکیوں پر خصوصی نظر رکھی جائے، شہر میں سکیورٹی فورسز کے گشت کو بڑھایا جائے ۔بغیر سفری دستاویزات کے کسی کو بھی پاکستانی علاقے میں داخل نہ ہونے دیا جائے اور غیر ملکی ہاتھ اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور بہی خواہوں پر کڑی نظر رکھی جائے جو چمن میں امن و امان کی صورتحال کو روزانہ کی بنیاد پر نشانہ بنا رہے ہیں۔