اسلام آباد(سپیشل رپورٹر )تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ریکوزیشن اجلاس صرف ہنگامی بنیادوں پر بلایا جاسکتا ہے ،اپوزیشن نے اپوزیشن نے جو قرارداد جمع کرائی ہے وہ تحریک مواخذہ نہیں، چیئرمین سینٹ کو تحریک مواخذہ میں چارج شیٹ لگائے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا۔ یہاں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ریکوزیشن اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جاسکے ،ریکوزیشن اجلاس کے حوالے سے رولز آف بزنس خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا رولز آف بزنس 243 کے تحت جہاں رولز خاموش ہیں وہاں چیئرمین سینٹ فیصلہ کریں گے ،چیرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے ریگولر اجلاس بلانا پڑے گا،حکومت چاہے تو 120 دن تک اجلاس نہ بلائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا،ایسی روایات پہلی بھی ہوچکی ہیں،اپوزیشن کو ائین اور قانون کے تحت چلنا ہوگا،اپوزیشن ایوان کو دھمکی سے نہیں چلا سکتی۔انہوں نے کہا چیئرمین سینٹ چھوٹے صوبے سے ہیں، انہیں ہٹانا غلط اقدام ہوگا، چیئرمین سینٹ نے غیر جانبداری ثابت کرنے کیلئے ہمارئے وزرا پر پابندی لگائی۔ انہوں نے کہا جو مرضی کرلو این ار او نہیں ملے گا۔