اسلام آباد(سپیشل رپورٹر،خصوصی نیوز رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پرچینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک کر دی گئی۔ کمیشن نے چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹر زکو قرار دیدیا، ریگولیٹرز کی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اور قیمت بڑھی،سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر فائدہ پہنچایا، جے ڈی ڈبلیو گروپ نے غیر قانونی طور پر کرشنگ میں اضافہ کیا اور ڈبل بلنگ اور اوور انوائسنگ میں ملوث پائی گئی۔ گزشتہ 5 سال کے دوران شوگر ملوں کو 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ اس عرصے میں شوگر ملوں نے 22 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا جس میں سے 12 ارب روپے ریفنڈ میں واپس لے لیے گئے ۔ ملک کے چھ گروپ چینی کی51 فیصد پیداوار کنٹرول کرتے رہے جن میں پی ٹی آئی رہنماجہانگیر خان ترین کا گروپ جے ڈی ڈبلیوسب سے بڑا ہے جو 21 فیصد پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے ۔ اسی شرح سے چینی کے حالیہ مصنوعی بحران میں ان چھ بڑے گروپوں کے مخفی منافع کا تخمینہ بھی لگایا جاسکتا ہے ۔ان میں جمال دین والی گروپ (21فیصد)، رحیم یارخان گروپ (12فیصد)، المعیز گروپ (6.8فیصد)، تاندلیانوالہ گروپ (4.9فیصد)، شریف گروپ (4.5فیصد) اور اومنی گروپ (1.65فیصد) شامل ہیں، ان گروپوں میں انتہائی اہم اور طاقتور سیاسی شخصیات، ان کے قریبی عزیز اور قابل اعتماد دوست شامل ہیں، پچھلے کئی سالوں میں ان بڑے گروپوں نے یوٹیلٹی سٹورز کو چینی فراہم نہیں کی، ایس اے بی اور سی سی پی جیسے ادارے مصنوعی چینی بحران کے دوران خاموش تماشائی بنے رہے ۔ پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن جو ان مضبوط گروپوں کی نمائندہ تنظیم ہے تمام اہم معاملات اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے ۔کمیشن نے تجویزکیا کہ اینٹی کرپشن، ایف بی آر، ایف آئی اے ، ایس ای سی پی اور ایس بی پی کے افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو ملک میں چینی کے تمام کارخانوں کا آڈٹ اور نتائج کی روشنی میں قانونی کارروائی کریں، نیب سے درخواست کی جائے کہ وہ پبلک آفس ہولڈ ر یا ان کے قریبی عزیزوں اوردوستوں کے چینی کے کارخانوں کے ان عوامل کی تفتیش کریں جو نیب آرڈیننس کے تحت قابل سزا جرم ہیں اور قومی خزانے سے سبسڈی کے حصول کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی بھی تحقیقات کریں۔ کمیشن نے قومی خزانے سے سبسڈی کے حصول کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی بھی تحقیقات اورموجودہ دور میں دی گئی سبسڈی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کی بجائے پنجاب حکومت کو قرار دے دیا۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ٹیکس چوری اور کسانوں کو کم ادائیگی کی رقم ادا کی جائے ، کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں آنے والے دنوں میں ایکشن ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں چینی بحران پر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی، کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ میں ذمہ قرار دیئے جانے والوں کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھیجنے اور مفادات کے ٹکراؤ کا قانون جلد نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، نجی ٹی وی کے مطابق کابینہ نے ٹیکس چوری میں ملوث شوگر ملز کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے اور آٹا بحران رپورٹ پر بھی مزید تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نے کہا حکومت میں شامل شخصیات کے کاروبار سے مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے جس پر وزیر فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون نافذ کرنے کی تجویز دی، فخر امام کی تجویز پر کابینہ نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون فوری نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اور شہباز گل کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاداکبرنے کہاوزیراعظم نے تمام مشیروں اورمعاونین خصوصی کو اثاثے ڈکلیئر کرنے کی ہدایت کردی ہے ،غیر منتخب ایڈوائزر بھی اپنے اثاثے ظاہر کریں گے ،وزیراعظم نے ہدایات دی ہیں کہ مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق فوری قانون سازی کی جائے ،وزیراعظم کافیصلہ ہے کہ کمیشن کی رپورٹ من وعن عوام کے سامنے رکھی جائے ،کمیشن نے چینی بحران کاذمہ دار ایس ای سی پی اور دیگر ریگولیٹرز کو قرار دیا ہے ، مسابقتی کمیشن چینی کی قیمتیں ریگولیٹ کرنے میں ناکام رہا،ریگولیٹرزکی غفلت کے باعث چینی کا بحران پیداہوااورقیمت بڑھی۔کمیشن نے کیسزنیب،ایف آئی اے اوراینٹی کرپشن کوبھجوانے کی سفارش کی ہے ،وفاقی کابینہ نے نظام کوفعال اوراداروں کومتحرک کرنے کی منظوری اوردیگر ملز کا فرانزک آڈٹ کرنے کی بھی ہدایت کی،کابینہ نے ریکوری کرکے پیسے عوام کودینے کی سفارش کی ہے ،عیدکے بعدوزیراعظم کی ہدایت پرسفارشات تیار ہوں گی، ابھی کسی کانام ای سی ایل پرنہیں ڈالاگیا،کوئی تحقیقاتی ادارہ کہے گاتوکابینہ نام ای سی ایل میں ڈالنے پرغورکرے گی۔شہزاداکبرنے کہا مارکیٹ میں سب سے زیادہ شیئرجے ڈی ڈبلیوگروپ،آروائی کے گروپ ،تاندلیانوالہ ،شریف اوراومنی گروپس کے ہیں۔المعیزگروپ میں شمیم خان اورنعمان خان مرکزی شیئرہولڈرہیں۔خسروبختیارکی کوئی شوگرمل نہیں بلکہ ان کے بھائی کی ہے ، تحقیقات کی بنیادپرمستقبل میں کارروائیاں ہوں گی ،خسروبختیار کے بھائی کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں،خسروبختیار کوعہدہ چھوڑنے کانہیں کہہ سکتے ،جوبراہ راست ملوث ہوگااس کے خلاف کارروائی ہوگی۔معاون خصوصی برائے احتساب نے کہارپورٹ میں شہبازشریف فیملی کی شوگر ملز میں ڈبل رپورٹنگ کے شواہد ملے ہیں،اگر یہ چینی کی قیمت میں ایک روپے کی بھی گڑبڑ کریں توان کو5.2ارب کا فائدہ ہوتاہے ، 19۔2018میں انھوں نے 78کروڑ روپے اضافی کمائے ،2018۔2017 میں ایک اعشاریہ 3 ارب روپے اضافی کمائے ۔جے ڈی ڈبلیو گروپ نے غیرقانونی طورپرکرشنگ میں اضافہ کیا،جہانگیرترین گروپ کی شوگرملزڈبل بلنگ اوراوورانوائسنگ میں ملوث نکلیں،جے ڈی ڈبلیو گروپ کی شوگرملز کارپوریٹ فراڈمیں ملوث ہیں،وزیراعظم نے کہاہے کہ 9کے بعداب باقی شوگرملز کابھی فرانزک ہوناچاہیے ،وزیراعظم نے عیدکے فوراً بعدسفارشات طلب کی ہیں اس کیلئے میری ذمے داری لگائی گئی۔ شہزاد اکبرنے کہا آج پاکستان کی سیاست کا تاریخ ساز دن ہے ،پہلے کسی حکومت کی ہمت نہیں تھی کہ ایسی تحقیقات کرتی اور حقائق سامنے لاتی،چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کودیکھ کر وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی بنائی،واجد ضیا نے کابینہ کے سامنے چینی کمیشن کی رپورٹ پیش کی، رپورٹ سے لگتاہے کاروباری طبقے نے نظام مفلوج کیا، رپورٹ میں لکھاہے کہ کاشتکار کو کیسے نقصان پہنچایاگیا، رپورٹ میں حیران کن انکشافات کئے گئے ہیں، تمام شوگرملوں میں15سے 30فیصدوزن کم تولاجاتاہے ، کسان کوکچی پرچی پرادائیگی کی جاتی ہے ،شوگرملیں کاشتکارکوامدادی قیمت سے کم دام دیتی ہیں۔ چینی کی جوسیل چیک کی گئی وہ تمام بے نامی ہے ، ایساعمل بے نامی ایکٹ کی خلاف ورزی اورٹیکس چوری ہے ، تحقیقاتی کمیشن یہ سب چیزیں سامنے لایا، رپورٹ میں لکھااومنی گروپ کوفائدہ دینے کیلئے سبسڈی دی گئی، مارکیٹ میں مختلف حربوں سے چینی مہنگی کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہاوزیراعظم پہلے دن سے جوکہتے تھے رپورٹ نے آج سوفیصد سچ ثابت کردیا،رپورٹ سے پتاچلتا ہے کیسے ایک کاروباری طبقے نے نظام کومفلوج کرکے بوجھ عوام پر ڈالا، رپورٹ نے نشاندہی کی کہ کسان سے کٹوتی کے نام پر بھی زیادتی کی گئی ، کسان کو کچی پرچی پر ادائیگی کی گئی جو 140 روپے سے بھی کم ہے ، شوگر ملز تواتر سے گنے کی کم قیمت ادا کرتے رہیں ،کسان کوتسلسل کے ساتھ نقصان پہنچایا گیا،وزیراعظم کی یہ بات سچ ثابت ہوگئی ہے ،وزیراعظم ہمیشہ کہتے ہیں کاروبارکرنے والاسیاست میں بھی کاروبار کرے گا، گنا کم قیمت پر خرید کر اس کی لاگت زیادہ دکھائی جاتی ہے ،کچی پرچی اور کمیشن ایجنٹ کے ذریعے کم قیمت پر کسانوں سے گنا خریداجاتاہے ،2017-18 میں شوگر ملزنے چینی کی فی کلو لاگت 51روپے رکھی،کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں فی کلو لاگت38روپے بتائی،اس طرح 13روپے فی کلو لاگت زیادہ ظاہرکی گئی،2017 کی کاسٹ آف پروڈکشن51 روپے فی کلو ہے ،کمیشن نے 38روپے قیمت رکھی، چینی کی پروڈکشن قیمت میں بہت فرق ہے ، ایک کلو چینی کتنے میں بنتی ہے اس سے پہلے آج تک اس کا آڈٹ نہیں کیا گیا،شوگر مل اپنے نقصانات کو بھی پروڈکشن نرخ میں شامل کردیتی ہے ،2018-2019 میں ساڑھے 12روپے فی کلو کا فرق پایا گیا ،2019-2020 میں چینی کی فی کلو لاگت میں 16روپے کافرق پایاگیا،کمیشن کوشواہد ملے ہیں کہ تمام شوگرملز نے دو دو کھاتے رکھے ہوئے ہیں، شوگر ملز میں ایک کھاتا سرکار کو دکھانے اور دوسرا سیٹھ کو دکھانے کیلئے رکھا جاتا ہے ۔شہزاد اکبرنے کہا رپورٹ کے مطابق چینی کی سیلز جوچیک کی گئی ہیں تمام بے نامی ٹرانزیکشنزہیں،شوگر کمیشن کی تحقیقات میں اکاؤ نٹنگ فراڈبھی سامنے آئے ہیں،2018میں وفاق نے 15.20 ارب روپے ،سندھ حکومت نے 9.3 ارب روپے کی سبسڈی دی ،پنجاب نے 2019 میں 3 ارب روپے کی سبسڈی رکھی،2019-20میں وفاق نے کوئی سبسڈی نہیں دی، گزشتہ 5 سال میں 29ارب روپے کی سبسڈی دی گئی،برآمدات کی مد میں 58 فیصد چینی افغانستان جاتی ہے ،افغانستان کو جوچینی ایکسپورٹ ہوتی ہے وہ ٹی ٹیزکے تحت ہورہی ہے ،پاکستان کی برآمد اور افغانستان کے درآمدی ڈیٹا میں فرق آیا،ایک ٹرک 15 سے 20 ٹن لے جاسکتا ہے ،یہاں ایک ٹرک پر70 سے 80 ٹن چینی افغانستان گئی،15 سے 20 ٹن والے ٹرک پر70 سے 80 ٹن چینی لادنامذاق ہے جوآج تک کسی نے نوٹ نہیں کیا،افغانستان کو چینی کی برآمد مشکوک ہے ،افغانستان ایکسپورٹ کی جانے والی چینی پشاورمیں بیچ دی جاتی ہے ،العربیہ میں کچی پرچی کارواج بہت ملا ہے ،کسانوں کو40کروڑ روپے کم دئیے گئے ،آٹے کی قیمت میں اضافہ سے متعلق کمیشن کی 3رپورٹس آئیں جو پی آئی ڈی کی ویب سائٹس پرموجودہیں،آٹااورچینی کی چوری پرکیسزبھی بن رہے ہیں،گندم کی چوری کی مدمیں ریکوری ہوئی ہے ، شوگر ملیں کاشتکاروں کو امدادی قیمت سے بھی کم دام دیتی ہیں، تقریباً تمام ملیں 15 سے 30 فیصد گنے کی قیمت میں کٹوتی کرتی ہیں، چینی کی سیل میں بے نامی ٹرانزیکشنز پائی گئیں،تمام شواہدکی روشنی میں تین قسم کی سفارشات دی گئی ہیں، ریگولیٹری فریم ورک کی سفارشات ہیں، ریاست کے ادارے ہیں جن کا کام اسے ریگولیٹ کرنا ہے تاکہ یہ عوام کا استحصال نہ کر سکیں۔پیداواری لاگت میں 15 فیصد رعایت مل رہی ہے ، ریگولیٹری سفارشات میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اگر اتنا گھاٹے کا سودا ہے تو حکومت اس کو کیوں سبسڈائز کر رہی ہے ،چینی کی پیداوار کو آن لائن کیا جانا چاہئے ، بار کوڈ سسٹم ہونا چاہئے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ کتنی پیداوار اور کتنی چینی فروخت ہوئی، ادویات والے معاملہ پر بھی انکوائری مجھے سونپی گئی ہے ، ہاشم جواں بخت نے پنجاب میں سبسڈی دینے کی مخالفت کی تھی،خسرو بختیار نے وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی سے خود معذرت کی کہ وہ اس وزارت سے الگ ہونا چاہتے ہیں،ہر شوگر ملز میں ایف بی آر کا ایک انسپکٹر ہوتا ہے ، اگر ملی بھگت نہ ہو تو کسی قسم کی گڑ بڑ نہیں ہو سکتی۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ادارے 20 ماہ میں خراب نہیں ہوئے ، سابق حکمرانوں کے کاروباری مفادات تھے ، انہوں نے غلط لوگ ان اداروں میں لگائے اور منظم طریقے سے انہیں تباہ کیا،فرانزک رپورٹ کی ساری تفصیلات سے پتا چلے گا کہ ملک میں کیا ہوتارہا، یہ ابھی شروعات ہیں،ہمارا منشورتبدیلی لانا اور مافیا کو بے نقاب کرنا ہے ، کمیشن پہلے بھی بنتے رہے لیکن حکومت ایسے ایشو کو منظر عام پر لا رہی ہے جو پہلے نہیں ہوا۔