لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرمملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ چینی مافیاکے بعد اگلے مرحلہ میں کھاد اورسیمنٹ والے بھی پکڑے جائینگے ،انکے ریکارڈ کا بھی فرانزک معائنہ ہوگا۔ چینل92نیوزکے پروگرام’’ہارڈ ٹاک پاکستان‘‘میں میزبان ڈاکٹر معید پیرزادہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ چینی انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کسی خاص شوگر ملز کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا، جن 9شوگرملوں کا سیمپل لیا گیا انکا مارکیٹ میں سب سے زیادہ حصہ ہے ۔ چینی پر رپورٹ کی کوئی چیز نہیں چھپائی گئی۔29 یا 30ارب کی سبسڈی میں ہماری پنجاب حکومت نے 2 ارب کی دی جبکہ وفاقی حکومت نے کوئی نہیں دی، ساری سبسڈی سابق حکومتوں نے دی۔ ایف آئی اے کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ، وفاقی وزیر اسد عمر اوردیگر حکومتی لوگوں نے جواب بھی دیا۔مراد علی شاہ کیوں کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے ، مطلب وہ چوری میں شامل ہیں۔ اومنی گروپ بنیادی طورپر آصف زرداری کا ہے جس کو سندھ حکومت نے 9.3ارب روپے کی سبسڈی دی ۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جنہوں نے عوام کو لوٹا ان سے ریکوری بھی کی جائیگی۔ پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری منظورنے کہا کہ عوام کی جیبوں سے 150 ارب روپے لوٹنے والوں کو صاف چھوڑ دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اسد عمر اوردیگر کے بارے میں رپورٹ میں ایک لفظ بھی نہیں، لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا ذمہ دارکون ہے ، صرف ایک سیاسی شخصیت کا نام لیاجارہاہے ۔رپورٹ میں ہمایوں اختر ، نصراللہ دریشک اور دیگر کا کوئی نام نہیں آیا۔ ا ومنی گروپ کا بڑا نام لیاجارہاتھا لیکن رپورٹ میں اسکا حصہ 1.6فیصد نکلا ۔ مجھے پتہ ہے کہ کس کے باپ نے چوری کی اوراسے کس لئے نکالا گیا ۔ مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ حکومت عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے ۔جب چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی تو اس وقت 55 روپے فی کلو قیمت تھی جواب 80روپے سے اوپر میں مل رہی ہے ۔ عوام کی جیب پر 100ارب کا ڈاکہ کس نے ڈالا ، اس کوپکڑاجائے ۔ ہمارے ادوار میں جو سبسڈی دی گئی اس پر بھی حکومت کارروائی کرے ۔