چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ چین مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے مدد دینے کو تیار ہے۔ لہٰذا پاکستان اور بھارت دونوں ممالک مذاکرات کی بحالی کو یقینی بنائیں۔ کشمیر کی صورت حال دن بدن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ آئے روز کشمیری عوام احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ اقوام متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق کئی مرتبہ کشمیر بارے رپورٹ جاری کر چکا ہے لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت کسی بھی ادارے نے آج تک بھارت کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد بارے مجبور نہیں کیا، جس کے باعث بھارت کشمیریوں کی نسل کشی پر اتر آیا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے اپنے ممبران اور ان کے سٹاف کو مسئلہ کشمیر بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے ’’کشمیر جھگڑوں کے 70سال‘‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کی تھی جس میں سینکڑوں پردہ پوش حقیقتوں کے نقاب الٹ دیے گئے تھے۔ ایک با ضمیر اور غیرت مند انسان کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لئے یہ رپورٹ کافی تھی لیکن مردہ دل لوگ اس رپورٹ پر بھی خاموش تماشائی کا کردار نبھاتے نظر آئے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لئے بھارت نے جو بھی حربہ استعمال کیا وہ الٹا اس کے سر ہی پڑا، حریت رہنمائوں کو نظر بند کیا تاکہ آئے روز کے جلسے جلوس روکے جا سکیں لیکن اس نظر بندی سے حریت قیادت کو بے پناہ عوامی ہمدردی ملی، جس بنا پر بھارتی افواج میں کھلبلی مچی رہی۔ پاکستانی پرچم لہرانے پر عوام پر تشدد کیا گیا لیکن گزشتہ روز بھارتی کرکٹ ٹیم کے نیوزی لینڈ سے میچ ہارنے پر کشمیریوں نے دل کھول کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ کشمیریوں کی 71سالہ جدوجہد آزادی میں ایک لمحہ کے لئے بھی توقف نہیں آیا،حالانکہ 7لاکھ درندہ صفت بھارتی افواج کی موجودگی میں وادی ایک چھائونی کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کشمیری بچے‘ بوڑھے ‘ نوجوان اور خواتین بھی بھارت سے آزادی کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ پاکستان نے کئی مرتبہ اس حساس مسئلے کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔ ایران‘ چین ‘ جاپان اور ترکی نے بھی ثالثی کی پیش کی لیکن بھارت تشدد کا راستہ ترک کر کے اس جانب آنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ تحریک آزادی کی نئی لہر میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔24ہزار کے قریب خواتین بیوہ جبکہ ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ 57اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی بھی محض ایک ڈھانچہ بن کر رہ گئی ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا غیر فعال کردار سب کے سامنے ہے اور جب ہر طرف سے اقوام متحدہ پر ملامت شروع ہو جاتی ہے تو وہ ایک مذمتی بیان جاری کر دیتی ہے لیکن اپنے اصل فرائض سے غفلت برت رہی ہے جو انتہائی قابل افسوس ہے ۔ اقوام متحدہ نے 71برسوں میں ایک بار بھی بھارت کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عملدرآمد کا پابند نہیں کیا۔ حالانکہ اس ادارے نے کشمیر سے مماثلث رکھنے والے متعدد مسائل دنوں میں حل کئے ہیں۔ در حقیقت اقوام متحدہ بھی صرف کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری جو کام اقوام متحدہ سے کروانا چاہتے ہیں، وہ فوراً ہو جاتا ہے، اس پر سلامتی کونسل کا اجلاس بھی ہو جاتا ہے اور تمام ممالک اس مسئلے پر متفق بھی ہو جاتے ہیں لیکن جس کام کو نظر انداز کرنا ہو اس کا حل مسئلہ کشمیر جیسا ہی ہوتاہے۔ یہ طرفہ تماشہ ہے کہ عالمی برادری ایک طرف دہشت گردی کے سدباب کے لیے افغان طالبان سے دوحہ میں مذاکرات کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی پر خاموش ہے۔ عالمی برادری کو اس سلسلے میں سنجیدگی اختیار کر کے منظم منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ورنہ مسلمانوں کے بارے اس کے دہرے معیار سے مسائل بگڑ جائیں گے ،کیونکہ کشمیر کے حالات کا اثر اس پورے خطے پر پڑتا ہے،امریکہ افغانستان میں امن کی بھر پور کوشش کر رہا ہے لیکن اگر وہ کشمیر کو نظر انداز کرے گا تو خطے میں امن کے ثمرات نہیں سمیٹ سکے گا ۔اگر عالمی اداروں نے بھی کشمیریوں کی نسل کشی پر خاموشی اختیار کئے رکھی تو پھر اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ درحقیقت بھارت بڑی چالاکی سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر لیکر گیا تھا جس کا مقصد تصفیہ نہیں بلکہ مسئلے کو طول دینا تھا کیونکہ اقوام متحدہ بھی صرف چند ممالک کا آلہ کار بنا ہوا ہے جس بنا پر اس کا کردار متنازعہ بن چکا ہے حالانکہ اس کا کردار غیر متنازعہ ہونا چاہیے تھا۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ جنوبی ایشیاء میں مسائل کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر ہے ،جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک مسائل جنم لیتے رہیں گے کیونکہ بھارت کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے جس کی عالمی سطح پر شنوائی ہی نہیں ہو رہی۔ آخر عالمی برادری کو کشمیریوں کا بہتا خون نظر کیوں نہیں آ رہا؟ کئی مائوںکے لخت جگر ‘ بہنوں کے بھائی اور لاتعداد خواتین کے سہاگ چھن چکے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ چین نے دونوں ملکوں پر اس مسئلے پر مذاکرات کا زور دیا ے۔ اس سے قبل اور بھی کئی ممالک مذاکرات کی بات کر چکے ہیں۔ لہٰذا عالمی برادری اب بھارت پر زور ڈالے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔ کیونکہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا خطے میں امن کا قائم ہونا ایک خواب ہی رہے گااور خطے میں مسائل بڑھتے رہیں گے اور غربت میں اضافہ ہو گا۔