کالم



آج کے کالم 


  


کالم آرکیو



مولانا فضل الرحمن کا دھرنا

هفته 19 اکتوبر 2019ء
ظہور دھریجہ
روزنامہ 92 کی خبر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنانے کا فیصلہ ہوا وزیر دفاع پرویز خٹک کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اجلاس میں پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ مذاکرات کیلئے کمیٹی کے قیام کا فیصلہ درست ہے مگر مذاکرات سے پہلے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے عمران خان خود مولانا فضل الرحمن کے بارے میں سخت لب و لہجہ اختیار کرتے رہے اور انہیں ہمیشہ اجتماعات میں ’’مولوی ڈیزل‘‘ کے نام سے پکارا۔ اب
مزید پڑھیے


سرسید احمد خاں پر ایک زور دار سیمینار

هفته 19 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
پہلے تو میں افضال ریحان کا تعارف کرا دوں۔ وہ جو میں جانتا ہوں۔ اس کی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں ایک پرانا واقعہ سنایا تھا۔ مرے پاس ایک نوجوان آیا کرتا تھا۔ بہت ہی پرانی بات ہے۔ وہ نوجوان کبھی ایک نکتہ نظر سے متاثر ہوتا کبھی دوسرے سے۔ مگر سچائی کی تلاش میں رہتا۔ ان دنوں وہ سو فسطائی تھا۔ کہنے لگا معلوم ہے‘ میں یہاں تک کیسے پہنچا۔ پھر بتایا کہ میں کراچی میں سو فسطائی کی ہال تک گیا تو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھاNo Religion is Higher Than truth یعنی کوئی مذہب سچائی
مزید پڑھیے


منحصردھرنے پہ ہو جس کی امید

هفته 19 اکتوبر 2019ء
قدسیہ ممتاز
حکومت ہی نہیں خود مولانا فضل الرحمن بھی مخمصے میں معلوم ہوتے ہیں کہ آخر اس چڑھائی کا جسے وہ آزادی مارچ کا نام دیتے ہیں مقصد ہے کیا۔میں نے خلوص دل سے جاننا چاہا کہ مولانا چاہتے کیا ہیں اور ان کی اس چاہت میں اپوزیشن ان کا نیم دلی سے ساتھ کیوں دے رہی ہے۔ایک بات تو طے ہے کہ مولانا جن کی فہم و فراست کی مثالیں دی جاتی ہیں،یونہی تو کوئی قدم اٹھانے سے رہے۔ انہوں نے اپنے اسی تاثر کو ترپ کا پتا بنا لیا ہے اور باقی اپوزیشن کو الجھن میں ڈالا ہوا ہے۔
مزید پڑھیے


کیا یہ پولیس ٹھیک ہو سکتی ہے؟

هفته 19 اکتوبر 2019ء
آصف محمود
سادہ سا سوال ہے : کیا یہ پولیس ٹھیک ہو سکتی ہے ؟ جواب اس بھی سادہ ہے: ہر گز نہیں۔ یہ محض بد گمانی نہیں ، ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پولیس کا یہ ادارہ عوام دوستی ، جرائم کے خاتمے یا انصاف کی فراہمی کے لیے بنایا ہی نہیں گیا۔ اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ قانون کے لبادے میں ایک ایسی فورس تشکیل دی جائے جو ظلم و بربریت اور اپنے طریق واردات سے اس بات کو یقینی بنائے کہ سماج فرماں بردار غلام کی طرح رہنا سیکھ لے اور کسی میں سر اٹھانے کی
مزید پڑھیے


مولانا کامارچ ……(4)

هفته 19 اکتوبر 2019ء
مجاہد بریلوی
جس ایک ’محرک‘کا میں نے ذکر کیا وہ ’’پنڈی ‘‘ہے کہ بہرحال سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے جانے کے بعد بحیثیت ایک ادارہ ’پنڈی‘ کے سارے بڑے جہاندیدہ ایک انسٹیٹیوشن کی حیثیت سے یہ فیصلہ کرچکے ہیںکہ وہ کسی بھی سیاسی بحران کی صورت میں پارٹی تو کیا امپائر بھی نہیں بنیں گے۔2014ء میں ہمارے خان صاحب کا دھرنا اُس موڑ پر آچکا تھا کہ بس ایک ’’امپائر‘‘کی انگلی بلکہ چھڑی ہلنے کی دیر تھی ۔یقینا اول تو حضرت مولانا کا مارچ ابھی گھٹنوں گھٹنوں چلاہے۔یوں اسلام آباد کا تخت اُس سے کوسوں دور ہے ۔پھر نظام ِ مصطفی
مزید پڑھیے


مشائخ کانفرنس برائے آزادی کشمیر

هفته 19 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ روز دو خوشگوار حیرتوں کا دل خوش کن تجربہ ہوا۔ پہلی حیرت تو یہ کہ جماعت اسلامی کے بارے میں بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ زاہدانِ خشک کی جماعت ہے مگر اہل جماعت نے جس عقیدت و محبت کے ساتھ جمعرات کو منصورہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے۔ مشائخ عظام کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے اس سے یہ اندازہ ہوا کہ یہ ’’زاہدان خشک‘‘ اندر سے بریشم کی طرح نرم ہیں۔ یہ الگ بات کہ رزم حق و باطل میں یہ فولاد دکھائی دیتے ہیں۔اہل منصورہ کی خوئے دلنوازی سے محسوس ہوا کہ
مزید پڑھیے


قدرِ مشترک

هفته 19 اکتوبر 2019ء
محمد اظہارالحق
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ’’آزادی‘‘ مارچ اور دھرنے کے پروگرام میں شامل جماعتیں اور شخصیات زیادہ تر وہ ہیں جو تحریک پاکستان‘ قیام پاکستان اور قائد اعظم کی مخالف ہیں یا جنہیں پاکستانی فوج سے نفرت ہے؟ سب سے پہلے مولانا کو لے لیجیے؟ کیا ان کی زبان سے کبھی کسی نے تحریک پاکستان یا قائد اعظم کا ذکر سنا ہے؟ کیا 23مارچ یا 14اگست کے حوالے سے انہوں نے کبھی کوئی پیغام قوم کو دیا ہے؟ پاکستانی تاریخ کے مبتدی کو بھی علم ہے کہ دیو بند مسلک سے وابستہ جمعیت علمائے ہند نے قیام پاکستان کی بھر پور
مزید پڑھیے


نیب ملزمان کی جیل مراعات ختم کرنے کا مستحسن فیصلہ

هفته 19 اکتوبر 2019ء
اداریہ
روزنامہ 92نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے نیب زدہ سیاستدانوں ‘ کاروباری افرادکی جیل مراعات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں قوانین میں ترمیم کا مسودہ کابینہ کو ارسال کر دیا گیا۔ جسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے منظوری کے بعد نافذ کر دیا جائے گا۔ اس میں شبہ نہیں کہ قومی خزانے کو لوٹنے والے اور کرپشن میں ملوث بعض بڑے ’’مگرمچھ ‘‘جیلوں میں وی آئی پی سہولتوں کے مزے لے رہے ہیں۔ انصاف کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جیل تو جیل ہوتی ہے خالہ جی کا گھر نہیں۔ جیل میں بھیجنے کا
مزید پڑھیے


بھارتی آبی جارحیت کے باعث جوہری جنگ کا خطرہ

هفته 19 اکتوبر 2019ء
اداریہ
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ 3مغربی دریائوں پر پاکستان کا خصوصی حق ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی کوشش کو جارحیت کا اقدام تصور کیا جائے گا۔ 1960ء میں ورلڈ بنک کی ثالثی اور ضامن کے کردار ادا کرنے سے دونوں ملکوں میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھاجس کے مطابق تین مشرقی دریائوں پر بھارت اور تین مغربی دریائوں پر پاکستان کا خصوصی حق تسلیم کیا گیا۔تین مغربی دریائوں کا منبع مقبوضہ کشمیر میں ہے اس لئے بھارت کو.3 20فیصد 3یعنی 6ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی
مزید پڑھیے


کامیاب جوان پروگرام

هفته 19 اکتوبر 2019ء
اداریہ
نوجوانوں کے ووٹ سے جیتنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے ایک سال بعد کامیاب جوان پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو 10ہزار روپے سے لے کر 50لاکھ تک قرض دیا جائے گا۔ ایک لاکھ تک کا قرضہ بلا سود ہو گا۔ دینی مدارس میں 500سکل لیبارٹریز قائم کی جائیں گی جہاں طلباء کو مختلف ہنر سکھائے جائیں گے۔ ان سکل لیبارٹریز میں بین لااقوامی معیار کی تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کو تعینات کیا جائے گا۔ جناح کنونشن اسلام آبادمیں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے نیشنل انٹرن
مزید پڑھیے


شاہی جوڑا،ڈیانا اور پاکستان

هفته 19 اکتوبر 2019ء
عا رف نظا می
برطانوی شاہی جوڑے ڈیوک آف کیمبرج شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ ڈچز آف کیمبرج کیٹ میڈلٹن کو اپنے دورہ پاکستان کے دوران خاصی پذیرائی ملی،دورے سے برطانوی اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی خاصی تشہیر ہوئی اور مجموعی طور پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوا ۔پاکستان ایک خوبصورت ملک جس میں دلکش قدرتی مناظر،برف پوش پہاڑ،کہساروں کا سینہ چیرتے اور میدانی علاقوں میں پرسکون دریا،بلند آبشاریں،نیلگوں جھیلیں، میدان ، ریگستان اور نخلستان سب کچھ موجود ہیں ۔یہاں کے عوام مختلف قسم کی ثقافت اور روایات میںعمومی طور پر اسلام کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ۔اس کے باوجود
مزید پڑھیے


پیپلزپارٹی کے لئے آزمائش کی گھڑی

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
سعید خاور
آج جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں تو سندھ کی ایک اہم صوبائی نشست پی ایس 11لاڑکانہIIکے ضمنی انتخاب کانتیجہ سامنے آچکا ہوگا،اس نشست پر پورے ملک کے تجزیہ کاروں کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ اس ایک نشست نے25جولائی 2018ء کے عام انتخابات سے جیالوں کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ یہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثاراحمد کھوڑوکی روایتی نشست ہے،جو وہ ہمیشہ ’’زندہ ہے بھٹو ،زندہ ہے‘‘کی بنیادپر بہ آسانی جیتتے چلے آئے ہیں،گزشتہ سال عام انتخابات میںنثار کھوڑو اپنی ایک شادی خفیہ رکھنے میںناکام رہے تو انتخابات کے لئے نا اہل قراردے دئیے گئے
مزید پڑھیے


استعفیٰ یا دوبارہ الیکشن

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
خاور نعیم ہاشمی
آج کل اہم ترین موضوع گفتگو مولانا فضل الرحمان کا کراچی سے اسلام آباد تک امن مارچ اور ممکنہ دھرنا ہے، مولانا کو اپنی اس ’’جدوجہد‘‘ میں پہلی بڑی کامیابی یہ ہوئی کہ حکومت ’’ مذاکرات‘‘ پر آمادہ ہوچکی ہے۔ جبکہ مولانا نے بات چیت کے لئے بھی استعفیٰ ساتھ لے کر آنے کی شرط لگا دی ہے۔میں اس موضوع پر کچھ نہیں لکھنا چاہتا تھا لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے پوری طرح مولانا کے شکنجے میں آجانے کے بعد ضروری ہوگیا ہے کہ اس بظاہر ’’بڑی لڑائی‘‘ میں کچھ حصہ ڈالا جائے۔ مولانا
مزید پڑھیے


مولانا مان جائیں گے

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
عمر قاضی
مولانا فضل الرحمان ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنا دیں گے یا نہیں؟ ابھی اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ شاید مولانا فضل الرحمان کے پاس بھی نہیں۔ کیوں کہ مولانا صاحب ضد کی سیاست نہیں کرتے۔ انہوں نے سیاست میں جذباتیت کی علامت بننے کے بجائے ہمیشہ عقل سے فیصلے کیے ہیں۔ وہ پاکستان کے ایک بہت بڑے عملیت پسند (Pragmatic) سیاستدان ہیں۔یہ ان کا کمال ہے کہ انہوں نے دین اور دنیا میں جوتوازن پیدا کر رکھا ہے وہ کسی اور مذہبی جماعت میں نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان سے کوئی کتنے بھی اختلافات کر سکتا
مزید پڑھیے


ہیں کواکب کچھ‘ مگر کیا؟

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
شاہین صہبائی
ملک کی صورتحال کچھ ایسی الجھی ہوئی اور گھمبیر سی لگ رہی ہے کہ اکثر وہ لوگ جو خود کو صورتحال سے واقف اور معلومات کا منبع سمجھتے ہیں، سوالات کرتے نظر آ رہے ہیں اور ان سے اگر کوئی سوال کیا جائے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ اس طرح کی صورتحال کو غیر یقینی کہنا شاید چھوٹی بات لگے کیونکہ کچھ حکومتی اور ادارتی پالیسیوں میں تو غیر یقینی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے لیکن پورا ملک اور جس طرف دیکھیں اگر یہی شکل نظر آئے تو شاید گڑ بڑ کچھ زیادہ ہی ہو گی۔
مزید پڑھیے






کالم نگار

اداریہ
اداریہ









سجاد میر
شہر آشوب

مستنصر حسین تارڑ
ہزار داستان

مجاہد بریلوی
شہر ناپرساں


مبشر لقمان
کھرا سچ

عبداللہ طارق سہیل
وغیرہ وغیرہ


بشریٰ رحمان
چادر چاردیواری اور چاندنی

نو شی گیلا نی
کا لم کہا نی


افتخار گیلانی
مکتوب دہلی

خاور نعیم ہاشمی
پردہ اٹھتا ہے


رضا رومی
رومی نامہ

انجم نیاز
یادداشت از امریکا



خاور گھمن
گھمن گھیریاں


سعید خا ور
حر ف درما ں

راوٗ خالد
رولا رپہ



اشرف شریف
شہر نامہ

ایچ اقبال
ایچ اقبال


قدسیہ ممتاز
حرف تازہ




سعود عثمانی
دل سے دل تک

اثر چوہان
سیاست نامہ

عامر متین
عامر متین

ارشاد محمود
بات یہ ہے


ناصرخان
فرنٹ لائن

عدنان عادل
امروزوفردا

ذوالفقار چودھری
تیسری آنکھ

شاہین صہبائی
چلتے چلتے



سعید خاور
حرفِ درماں

رعایت اللہ فاروقی
گفتار و پندار

یوسف سراج
نقش قدم


عمر قاضی
لالہ صحرائ

عبدالرفع رسول
مکتوب سری نگر

احمد اعجاز
کہانی کی کہانی

خالد ایچ لودھی
دل کی باتیں

رحمت علی رازی
درون پردہ

وسی بابا
باتاں


راحیل اظہر
غبارِخاطر

محمد عامر رانا
اقلیم در اقلیم