اترپردیش کے سون بھدر کے گھوڈ وال علاقہ میں گاؤں کے پردھان کے ذریعے کسانوں کو اپنی زمین خالی کرنے سے انکار کرنے پر گاؤں والوں اور پردھان کے مابین تنازعہ میں فائرنگ سے دس لوگوں کی موت اور 28/دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کی اطلاع جیسے ہی کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی وڈرا کو ملی انہوں نے فوراً سون بھدر کے لئے رخت سفر باندھ لیا لیکن انہیں سون بھدر جانے سے روک دیا گیا اور پرینکا گاندھی کو گرفتار کر لیا گیا۔ اپنی گرفتاری پر پرینکا گاندھی نے نامہ نگاروں سے کہا کہ’’میں متاثرین کے کنبہ والوں سے مل کر رہونگی۔ میں غریبوں کے لئے یہاں آئی ہوں۔ میں انہیں انصاف دلانا چاہتی ہوں۔ کیا غریب کے خون کی قیمت نہیں ہے۔ مرزا پور ضلع میں واقع چنار گیسٹ ہاؤس میں جمعہ سے دھرنے پر بیٹھنے والی کانگریس جنرل سیکرٹری کے سخت رخ کے سامنے بالاآخر انتظامیہ کو جھکنا پڑا۔ قتل عام کے متاثرہ خاندانوں سے ملے بغیر واپس جانے اور سکیورٹی بانڈ پر ضمانت لینے سے صاف انکار کے بعد ضلع اور پولیس انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کے کچھ افراد کو گیسٹ ہاؤس لاکر ان سے ملوایا۔ ایک کمرہ میں پرینکا گاندھی نے ان کی روداد سنی۔ متاثرین کے آنسو دیکھ کر پرینکا گاندھی جذبات سے اس قدر مغلوب ہوگئیں کہ وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پائیں۔ یہ دیکھ کر وہاں کا ماحول مغموم ہوگیا۔ پرینکا گاندھی نے متاثرین کو یقین دلایا کہ کانگریس اس مصیبت کی گھڑی میں ان کے ساتھ ہے اور آگے بھی ہر ممکن امداد فراہم کرے گی۔ ایک خاص بات جو یہاں پر واقع ہوئی وہ یہ کہ کانگریس پارٹی نے اپنے پاس سے متاثرہ خاندانوں کو 10،10لاکھ روپے بطور امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا اس کا اعلان پرینکا گاندھی نے کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو 25،25لاکھ روپے بطور معاوضہ دے۔ اس معاملے میں پرینکا گاندھی نے جس طرح حاضر دماغی کا ثبوت دیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے مودی کے برسراقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کو پورے ملک میں مختلف ریاستوں میں ہندو دہشت گرد موب لینچگ (پولیٹیکل مرڈر) کے ذریعے نشانہ بناکر بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ انہیں موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جھارکھنڈ میں ہجومی تشدد میں مارے گئے تبریز انصاری کے معاملے نے تو عالمی توجہ کو اپنی جانب متوجہ کرلیا تھا۔ اقوام متحدہ اور دوسرے کئی ممالک بشمول امریکہ میں اس کی بازگشت سنائی دی جس کی وجہ سے ملک کی بڑی بدنامی ہوئی اور ملک کا نام شرم سے جھک گیا۔ جو لوگ حالات و واقعات پر نظر رکھتے ہیں انہیں یاد ہوگا کہ ہجومی تشدد کے واقعات میں، جس میں مسلمان مارے گئے تھے۔ کسی بھی کانگریسی لیڈر نے وہاں کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرنے کی زحمت گوارہ کی۔ راہول گاندھی سب جگہ کا دورہ کرتے رہے لیکن انہوں نے بھی مسلمانوں سے ملنے سے احتراز کیا وہ اس لیے کہ کہیں ان پر مسلمانوں کی منہ بھرائی کا الزام نہ لگ جائے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے اور وہاں پر بھی موب لینچگ کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس کے دوبارہ برسراقتدار آنے میں مسلمانوں کا بڑا رول رہا ہے۔ لیکن یہاں پر مسلمانوں کو کانگریس کے ذریعے خاموشی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملا ہے۔ راجستھان کے ضلع الور میں پہلو خان واقعہ میں اشوک گہلوت کی حکومت نے مرحوم پہلو خان اور اس کے لڑکے کے خلاف چارج شیٹ داخل کردی۔ اس پر بہت لے دے ہوئی تو کانگریس کی راجستھان حکومت نے ازسر نو تفتیش کا اعلان کیا۔ کانگریس لیڈر شپ نے دوہرا معیار اختیار کر رکھا ہے۔ اکثریتی آبادی کے ساتھ کانگریس لیڈر شپ کا برتاؤ کچھ اور ہے اور مسلمانوں کے ساتھ الگ برتاؤ کیا جاتا ہے۔ کانگریس میں ایک بڑی تعداد مسلم لیڈروں کی ہے اور جن کا کام سوائے کانگریس کی اعلیٰ قیادت کی چاپلوسی کے اور کچھ بھی نہیں رہ گیا ہے اور یہی ایک کام ہے جسے وہ بڑی خوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ کانگریس کی قیادت کے پاس مسلمانوں کی ہمدردی کے لئے دو بول نہیں ہیں۔ بطور مدد کے پیسہ دینے کی بات تو بہت دور ہے۔ سون بھدر میں اکثریتی آبادی کے افراد مارے جاتے ہیں تو پرینکا گاندھی کی نیند اڑ جاتی ہے اور وہ ان سے ملاقات کے لیے انتظامیہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتی ہیں اور متاثرین کے خاندانوں سے مل کر انہیں دلاسہ دیتی ہیں اور کانگریس پارٹی کی جانب سے 10،10لاکھ روپے دینے کا اعلان کرتی ہیں۔ اس طرح کے دوہرے معیار کو دیکھتے ہوئے بھی کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتی ہیں آخر انہیں کانگریس پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایسا کیا گھول کر پلا دیا ہے کہ وہ خاموش رہنے ہی میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔ہندوستان میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم روا رکھے جا رہے ہیں اس پر بھی مسلم رہنماؤں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تمام مسلمانوں کو خاص طور پر رہنماؤں کو چاہیے تھا کہ وہ چاہے جس بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ،موقع مناسبت سے ایک ہوجاتے مگر ہنوز مسلم رہنماؤں میں ایسا اتحاد دیکھنے کو نہیں مل رہا ۔جس کی وجہ سے ہندو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور مودی اور دوسرے ہندو رہنماوں کی انکو بھرپور مدد حاصل ہے ۔اب بھی وقت ہے کہ مسلم رہنما سمجھ جائیں اور متحد ہو جائیں ،بصورت دیگر داستان تک نہ رہے گی داستانوں میں ۔ (بشکریہ ،سیاست دہلی)