کابل( نیٹ نیوز ) عیدالا ضحیٰ کے موقع پر افغان طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے 76 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے جو افغانستان کے صوبوں اروزگان، قندوز، خوست اور سرِ پُل میں افغان طالبان کی قید میں تھے ۔ طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے اور امر یکہ کے درمیان افغانستان سے ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلا پر ہونے والے مذاکرات کا حالیہ دور ختم ہوگیا اور اب دونوں فریق اگلے لائحہ عمل کے لیے اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے ۔ طالبان کے ساتھ مذ اکرات کیلئے امریکہ کے خصو صی نما ئندے زلمے خلیل زاد ن کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذ اکرات کا حالیہ دور مثبت رہا ۔ مذاکرات کے دوران بہت سی تکنیکی تفصیلات پر بات کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تفصیلات پر واشنگٹن میں جاکر مشاورت کر ونگا ۔افغان طالبان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے قیدیوں کو جلد آزاد کیا جائے گا جو افغانستان کے دوسروں صوبوں کی افغان جیلوں میں موجود ہیں۔بیان کے مطابق، آزاد کئے گئے قیدیوں میں سے 18 صوبہ اروزگان سے ، 35 قندوز سے ، 15 خوست سے جبکہ 8 قیدی سرِ پُل صوبے کی طالبان جیلوں میں قید تھے ۔ واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب امر یکہ اور طالبان میں امن معاہدہ ہونے کی امید ہے جبکہ افغان طالبان اور امریکی حکام میں جلد ہی مذاکرات کا اگلا دور شروع ہونے کی توقع ہے ۔ ادھر طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے اور امر یکہ کے درمیان افغانستان سے ہزاروں امریکی فوجیوں کے انخلا پر ہونے والے مذاکرات کا حالیہ دور ختم ہوگیا اور اب دونوں فریق اگلے لائحہ عمل کے لیے اپنی قیادت سے مشاورت کریں گے ۔ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ خلیجی ملک قطر میں ہونے والا مذاکرات کا آٹھواں دور 'طویل اور مفید' تھا اور یہ اختتام پذیر ہوگیا۔تاہم انہوں نے مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے طالبان کے ایک اور ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے کے بعد کسی معاہدے کی توقع ہے کیونکہ دونوں فریقن امر یکہ کے سب سے بڑے تنازع تقریباً 18 سالہ جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔اگر یہ معاہدہ ہوجاتا ہے تو متوقع طور پر اس میں طالبان کی یہ ضمانت شامل ہوگی کہ افغانستان مستقبل میں کسی دوسرے عسکریت پسند گرہوں کیلئے پناہ گاہ نہیں ہوگا۔ تاہم دونوں داعش اور القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند ابھی بھی اس ملک میں متحرک ہیں۔دوسری جانب طالبان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر افغانستان میں حملے کرتے ہیں، جس میں زیادہ تر افغان فورسز اور حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاتا لیکن اس میں کئی شہری بھی ہلاک ہوتے ہیں۔اس معاہدے میں جنگ بندی اور اس شرط کو بھی شامل کیا جاسکتا کہ ہے طالبان افغان نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے ، اگرچہ عسکریت پسند گروپ اب تک کابل کے نمائندوں سے بات چیت سے انکاری رہا ہے کیونکہ ان کے بقول افغان حکومت امریکا کی کٹھ پتلی ہے ۔تاہم اس تمام صورتحال امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن گزشتہ روز ایک ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا تھا کہ 'امید ہے کہ یہ جنگ زدہ افغانستان کی آخری عید ہے ۔