لاہور(سٹاف رپورٹر،اپنے سٹاف رپورٹرسے ) عاشق رسول ﷺ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم رضوی کا سفر آخرت تاریخ رقم کر گیا، ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مجمع ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوا، ملک بھر سے لاکھوں افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی، مینار پاکستان گراؤنڈ مکمل طور پر بھر گیا ، اطراف کی سڑکوں پر بھی جگہ ختم ہوگئی ، کئی کلومیٹر تک ٹریفک جام رہی، داتا دربار سے مینار پاکستان تک اور پھر شاہدرہ تک لوگوں کا ہجوم نماز جنازہ ادا کرنے کیلئے موجود تھا، شرکا لاری اڈا اور ریلوے سٹیشن تک بھی پہنچ گئے ، ہنگامی حالت میں محبت رسول ﷺ میں سرشار علامہ رضوی کی نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آنے والوں کیلئے بادشاہی مسجد بھی کھول دی گئی، بادشاہی مسجد بھی عاشقان رسول ﷺ سے بھر گئی، لا کھوں عقیدت مندوں نے ناموس رسالت ﷺ کے ترانے سنانے والے کو عقیدت اور احترام سے ر خصت کیا، نماز جنازہ کا وقت 10بجے مقرر کیا گیا تاہم نماز جنازہ تقریباًپونے دو بجے کے قریب پڑھائی گئی ، خادم حسین رضوی کے بیٹے حافظ سعد حسین رضوی نے نمازجنازہ پڑھائی، جید علمائکرام اور عقیدت مند دھاڑیں مار مار کر روتے رہے اور ایک دوسرے کو گلے لگاکر صبر کی تلقین کرتے رہے ، ہر آنکھ اشکبار تھی ، نماز جنازہ کیلئے ملتان روڈرہائش گاہ سے میت کو ایمبولینس میں قافلے کی صورت مینار پاکستان گراؤنڈ لے جایا گیا، نماز جنازہ کے بعد واپس علامہ خادم حسین رضوی کو واپس لا کر ملتان روڈ پر واقع ان کی مسجد و مدرسہ رحمۃ اللعالمین کے بالمقابل مدرسہ ابوذر غفاری میں سپرد خاک کیاگیا، میت کی آمد اور رخصتی کے دوران مینار پاکستان گراؤنڈ ’’تاجدار ختم نبوت زندہ باد ‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہا ، قل خوانی آج صبح نو بجے مزارحضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ کے احاطے میں ہوگی۔ سبزہ زار سے مینار پاکستان قریباً نو کلومیٹر کا فاصلہ چارگھنٹے سے زائد میں طے ہوا ، جگہ جگہ سڑک کے دونوں اطراف اور چھتوں پر کھڑے لوگوں نے گاڑی پر پھول برسائے ، تحریک لبیک کے ذرائع کے مطابق جنازے میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ شریک تھے ، حکومتی اداروں اور میڈیارپورٹس کے مطابق 5 لاکھ کے قریب لوگوں نے نمازجنازہ میں شرکت کی ، گریٹر اقبال پارک عقیدت مندوں سے بھرگیا تو پارک میں داخلے کے تمام دروازے بند کردیے گئے ، بادشاہی مسجد سے ملحق گراؤنڈ، شاہی قلعہ گراؤنڈ میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، قریبی گھروں ،دکانوں اورپلازوں کی چھتوں سمیت آزادی فلائی اوور بھی لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، گراؤنڈ سے مسلسل لبیک یارسول اللہ کی صدائیں بلند ہوتی رہیں، ملتان روڈ پر زیادہ تر مارکیٹیں اور دکانیں بند رکھی گئیں ۔ مینار پاکستان گراؤنڈ میں نماز جنازہ میں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری،علامہ خادم حسین رضوی کے استاذ اور جامعہ نظامیہ کے شیخ الحدیث عبدالستار سعیدی،مفتی منیب الرحمن ، مولانا الیاس قادری کے فرزند مولانا بلال عطاری قادری، ثروت اعجاز قادری، جماعت اسلامی کے نائب امیرلیاقت بلوچ ،ذکر اللہ مجاہد، ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی،میاں ولید احمد شرقپوری ،علامہ شفیق امینی، بشیر احمد یوسفی، صاحبزادہ عثمان علی جلالی، علامہ قاری زوار بہادر، صاحبزادہ فضل الرحمن اوکاڑوی، خواجہ غلام قطب الدین فریدی ،، جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنما مولانا محمد امجد خان ، مولانا رشید میاں ، پیر ضیا ء الحق نقشبندی، مولانا عبدالودود، مولانا سلیم اللہ قادری، تحریک لبیک اسلام کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ، ڈاکٹر میاں صغیراحمد مجددی،مفتی محمد طاہر نواز طحاوی،مفتی محمد زاہد نعمانی،مفتی ارشاد احمد جلالی،علامہ قاری محمد زوار بہادر، حافظ نصیر احمد نورانی ،رشید احمد رضوی،مفتی تصدق حسین ،محمد ایوب مغل ،محمد ارشد مہر،حافظ احسان الحق ،مولانا محمد اعظم قادری،صاحبزادہ رضا مصطفے ٰ ،مفتی محمد حسیب، پیر منیر قادری ،مولانا محمد علی نقشبندی، مفتی عرفان حنفی ،،جمعیت علما پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید محمد صفدر شاہ گیلانی،علامہ سید عقیل انجم قادری، صاحبزادہ مفتی محمد فضل الرحمن اوکاڑوی، مولانا نصیر احمد نورانی پیر سعید احمد نقشبندی،علامہ سید عرفان شاہ مشہدی، پیر میاں محمد حنفی سیفی ، علامہ طاہر تبسم قادری، علامہ ثاقب رضا مصطفائی ،عقیدت مندوں اور کارکنوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔