اسلام آباد، بنکاک ( خصوصی نیوز رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)بنکاک میں پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس( ایف ا ے ٹی ایف) کے مابین مذاکرات شروع ہو گئے ہیں ، پاکستانی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن حماد اظہر کر رہے ہیں جبکہ ٹیم میں وزارت خزانہ ، ایف آئی اے ، سٹیٹ بینک ، ایف بی آر ، ایس ای سی پی اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کااجلاس 13ستمبر تک جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں تک مالیاتی رسائی کی روک تھام کے حوالے سے دیئے گئے ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائیگا۔ ایکشن پلان کے جون 2019تک جن اہم نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائیگا ، ان میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کو مالی امداد فراہمی کی گئی تحقیقات ، متعلقہ اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی ، مالیاتی اداروں کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں تک مالیاتی رسائی کی روک تھام کیلئے اقدامات سمیت دیگر امور شامل ہیں۔ بنکاک میں ہونیوالا ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ کا اجلاس اسلئے اہم ہے کہ اسکے فیصلوں کی روشنی میں اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف کے پیرس میں ہونیوالے اجلاس میں فیصلہ کیا جائیگا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالناہے ، برقرار رکھنا ہے یا بلیک لسٹ میں شامل کرنا ہے ۔ پہلے روز ایشیا پیسفک گروپ کی جانب سے پاکستان کیلئے 127 سوالات کے جوابات پر بحث کی گئی،زیادہ تر سوالات کالعدم تنظیموں کی مبینہ بلیک مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق تھے ۔پاکستان ان سوالات کے جوابات پہلے ہی اے پی جی کو بھجوا چکا ہے ۔کالعدم تنظیموں کے اثاثوں پر مکمل کنٹرول کیلئے صوبوں ومرکزمیں تعاون پربھی سوالات کئے گئے ۔اے پی جی کاموقف تھاکہ کالعدم تنظیمیں سونے ،رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔کالعدم تنظیموں کی سرمایہ کاری روکنے کے اقدامات پربحث آج بھی جاری رہے گی۔ پاکستانی وفد اجلاس کے پہلے روز کی کارروائی میں پیشرفت سے مطمئن نظرآیا۔پاکستانی وفدکوامیدہے کہ اے پی جی ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کے حق میں سفارشات بھجوائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف اے ٹی ایف اجلاس کے بعد وفاقی وزیر حماد اظہر کا وزیر اعظم عمران خان سے رابطہ ہوا۔حماد اظہر نے وزیر اعظم کو پہلے روز ہونے والے مذاکرات کے بارے میں بریفنگ دی، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پوچھے گئے سوالات اور پاکستان کی طرف سے دیئے گئے جوابات سے آگاہ کیا۔