کراچی (رپورٹ:ایس ایم امین )کراچی کے ساحل پر 3نئے شہروں کی تعمیرکے وفاقی حکومت کے فیصلے پرسندھ میں تشویش پھیلنے کے بعد مزاحمتی تحریک کی صف بندی شروع ہوگئی ہے ۔ماہی گیر،سول سوسائٹی،ماحولیاتی تنظیموں نے وفاقی حکومت کے ممکنہ اقدام اورساحلی اتھارٹی کے قیام کیخلاف تحریک چلانے کیلئے سیاسی جماعتوں سے مدد طلب کرلی ہے ۔ڈنگی اوربھنڈارپر2000ء اور2006ء میں نئے شہربسانے کی سابق صدرپرویزمشرف کی کوشش ناکام ہوچکی ہے ۔پیپلزپارٹی کی طرف سے 2013ء میں کراچی کے جزائرٹھیکہ پردینے کی کارروائی عدالت نے کالعدم قراردیدی تھی۔کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے ساحل کیساتھ دو جڑواں جزائرڈنگی اوربھنڈار پرجبکہ ہاکس بے کی ساحلی پٹی پرنئے شہر کی تعمیرکو سندھ اوربلوچستان کے ماہی گیروں،سول سوسائٹی اورماحولیاتی تنظیموں نے آبی حیات کی نسل کشی اورساحلی پٹی پربرسوں سے آباد ماہی گیروں اورماہی گیری کی صنعت کیلئے قاتل منصوبہ قراردیاہے ۔معتمد ترین ذرائع کے مطابق منصوبے کیخلاف بعض حکومت مخالف جماعتوں نے شمولیت کی یقین دہانی کرادی ہے ۔ابتدائی مشاورت میں یہ فیصلہ کیا گیا کراچی کی ساحلی پٹی کی تحفظ کیلئے وسیع تراتحاد بنایا جائے جس میں سیاسی،سماجی، ماحولیاتی تنظیموں،ماہی گیروں،سول سوسائٹی اوروکلا کواکٹھا کرکے جدوجہد کا آغازکیا جائے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت ساحلی اتھارٹی کے قیام کے تحت کراچی کے سمندری جزائرکے علاہ ہاکس بے میں60ہزارایکٹرپرواٹرفرنٹ شوگرلینڈ سٹی تعمیرکرنے کا منصوبہ بنایا ہے جسکی لاگت 100 ارب روپے کے لگ بھگ ہے ۔