کراچی کے علاقے کیماڑی میں پراسرار زہریلی گیس کے اخراج سے خاتون سمیت 6افراد جاں بحق اور 100سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس اچانک پیش آنے والے حادثہ پر علاقے میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے تاہم انتظامیہ ابھی تک گیس کے اخراج کی وجوہات کا پتہ چلانے میں ناکام ہے۔ ایک سال قبل فروری کے مہینے میں ہی ایک خاتون اور 5بچے زہریلی گیس پھیلنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تھے۔ ٹھیک ایک سال بعد ایک اور روح فرسا واقعہ انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے‘ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ چین سے آنے والے کنٹینر کھولنے سے گیس پھیلی ہے۔ اگریہ اطلاع صحیح ہے تو اس کا تدارک کیا جائے اورآئندہ کنٹینروں کو کھولنے سے قبل حفاظتی انتظامات کو ممکن بنایا جائے ورنہ اس قسم کی غفلت کسی مزید بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گیس پھیلنے کی وجوہات کا فوری طور پر ماہرین پر مشتمل کمیٹی سے تحقیقات کرائی جائے۔ اگر کسی کی غفلت سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے تو اس سلسلہ میں قانونی تقاضے پورے کئے جائیں ۔ جو لوگ گیس پھیلنے کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں ان کے لواحقین کی مالی معاونت کی جائے اور متاثرین کو علاج کی بہترین طبی سہولتیں دی جائیں تاکہ وہ جلد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔