لاہور(خصوصی نمائندہ،جنرل رپورٹر)گورنر پنجاب نے کہا ہے کہ9نومبر کو وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کر تار پور راہداری منصوبہ کے افتتاح کے بعد بھارت سے روزانہ 5ہزار سے زائد سکھ یاتر یوں کی آمد شروع ہو جائیگی، 11نومبر کو بھارت سمیت دیگر ممالک سے آنیوالے سکھ یاتریوں کے اعزاز میں گور نر ہاؤس میں استقبالہ دیا جائیگا جس کیلئے رجسٹر یشن بھی شروع کردی گئی۔ان خیالات کااظہار گورنر پنجاب نے کینیڈاکے شہر ٹورنٹو سے شروع ہوکر 20ممالک کے بعد گور نر ہاؤس لاہور پہنچے والے سکھ یاتریوں کے بس قافلے کے استقبال کے موقع پر پر یس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ، گور نر پنجاب نے کر تار پورراہداری منصوبہ کو دنیا میں ’’امن کا منصوبہ ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے اس منصوبہ سے ثابت ہو چکاہے کہ پاکستان امن پسنداور اقلیتوں کیساتھ ہے ۔بعدازاں سوئٹزرلینڈ کے 4 رکنی پارلیمانی وفد نے گور نر پنجاب سے ملاقات کی ،وفد کی قیادت جین رینی فورنیر کر رہے تھے ۔ملاقات کے دوران سیاحت، معیشت اور دونوں ملکوں کے تعلقات اور دیگر ایشوز پر بات چیت کی۔قبل ازیں سوئٹزرلینڈ کے 4 رکنی پارلیمانی وفد نے مزار اقبال پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج اورمفکر پاکستان کو بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،وفد نے بادشاہی مسجد اور لاہور قلعہ کا بھی دورہ کیااور مغلیہ دور کے فن تعمیر کو سراہا۔ دریں اثنا گورنر نے چلڈرن ہسپتال میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ جب نوازشر یف کے بیرون ملک علاج کیلئے درخواست دے گی تب ہی کوئی فیصلہ کیا جائیگا۔مولانامنجھے ہوئے سیاستدان ہیں وہ بھی ٹکراؤ نہیں چاہتے ۔حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطر ہ نہیں آئینی مدت پوری ہوگی اور مولانا کا احتجاجی دھر نا بھی ختم ہو جائیگا۔