سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ‘ اینٹی انکروچمنٹ سیل اور نام نہاد بلڈر مافیا کی ملی بھگت سے ناقص خام مال سے تیار ہونے والی چار منزلہ عمارت اپنے ہی بوجھ سے زمین بوس ہو گئی ‘جس کے نتیجے میں 14افراد جاں بحق اور 36زخمی ہو گئے۔ کراچی میں ناقص میٹریل سے تیار کی جانے والی عمارتیں لوگوں کے لئے وبال جان بن چکی ہیں۔ منہدم ہونے والی عمارت کو 17برس قبل ٹیڑھا ہونے پر خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت یہ عمارت صرف دو منزلوں پر محیط تھی لیکن لاکھوں روپے رشوت لے کر اس ناقص عمارت پر مزید دو عمارتیں بنانے کی اجازت دی گئی۔ بلڈر مافیا ایس بی سی والوں کے ساتھ ساز باز کر کے این او سی حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے بعد پیسوں کے لالچ میں ناقص میٹریل سے بلند و بالا عمارت کی تعمیر کر دی جاتی ہے یا پھر صوبائی حکومت جان بوجھ کر عروس البلاد کو نظر انداز کر رہی ہے۔ بلڈر مافیا کے نام منظر عام پر آنے کے باوجود انتظامیہ انہیں گرفتار کر رہی ہے نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے۔ ہر سانحہ کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ اور چند وزراء تعزیتی بیان جاری کر کے معاملے سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ایسا تو صرف بنانا ریاستوں میں ہوتا ہے، سندھ حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلڈر مافیا اور سندھ بلڈنگ اتھارٹی اور اینٹی انکروچمنٹ میں موجود کالی بھیڑوں اور راشی افسران کے خلاف کارروائی کرے تاکہ معصوم اور بے گناہ افراد کی جمع پونجی اور قیمتی جانیں ضائع ہونے کا سلسلہ رک جائے۔