اسلام آباد (وقائع نگار،نامہ نگار،صباح نیوز)میثاق ریسرچ سینٹر کے زیر اہتمام علاقائی سکیورٹی اور مسئلہ کشمیر کے عنوان سے کانفرنس میں مختلف سکالرز، دانشوروں ، سفارتکاروں ، وکلا اور تجزیہ نگاروں نے شرکت کی۔ صدر آزاد جموں کشمیر سردار مسعو خان نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ کیا گیا تو ایٹمی جنگ یقینی ہے ۔ تمام معاملات کو ریاست کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے نوجوان اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو سفارتی محاذ پر پسپائی کا سامنہ ہو رہا ہے اور اس سلسلہ میں عمران خان کا کردار قابل ستائش ہے ،کشمیر کو کسی نے بیچا نہ کسی میں ایسا کرنے کی ہمت ہے ۔ ان کا کہنا تھا 5اگست کے بعد مسئلہ کشمیر ایک نئے فیز میں داخل ہو چکا ہے ۔وفاقی وزیرپارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ہماری منزل سری نگر نہیں بلکہ لال قلعہ ہے اور میں مودی کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستانی عوام کا ہر فرد پاک فوج کا سپاہی ہے ۔ سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہم کشمیر کیلئے آخری حد تک جا ئینگے ، وزیر اعظم پاکستان کی اس سلسلے میں پالیسی واضح ، حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہیں۔ سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی تقریر نے تمام قوم کی ترجمانی کی ۔ چین نے ہمیشہ دو ٹوک انداز میں مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھرپور تائید کی ۔جنرل ہارون اسلم نے کہا کہ اگر ایٹمی جنگ ہوئی تو ساری دنیا اس کے اثرات سے نہیں بچ سکے گی اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت بھارت کی عددی برتری کے باوجود ناقابل تسخیر ہے ۔ ائیر مارشل(ر) سہیل امان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ، پاکستان ائیر فورس دنیا کی بہترین ائیر فورس ہے اور ہم بھارت اور اسرائیل دونوں کو 5 منٹ کے اندر صفحہ ہستی سے مٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کانفرنس سے مذہبی سکالر عمران سندھو اور ڈائیریکٹر جنرل اسلام آباد انسٹیٹیوٹ آف پالیسی ریسرچ نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر سفارتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ کانفرنس کے اختتام پرمیزبان اور ڈائریکٹر جنرل میثاق ریسرچ سینٹر عبد اﷲ گل نے مہمانوں کا شکریہ اداکیا اور مقررین میں اسناد تقسیم کیں۔