مکرمی !کم عمری کی شادی معاشی‘ معاشرتی اور سماجی اعتبار سے لاتعداد مسائل کو جنم دیتی ہے۔ کم عمر ی میں شادی ہو جانے سے لڑکیاں اس بڑی ذمہ داری کی ادائیگی احسن طریقے سے نہیں کر پاتیں جس سے گھر‘ بچے اور سسرال انتہائی تکلیف دہ حالات سے دوچار ہوتے ہیں۔15 سے 19 سال کی لڑکیاں اس قابل نہیں ہوتیںکہ وہ گھر کو سنبھال سکیں۔ اس طرح وہ بہت سے مسائل سے دوچار ہوجاتی ہیں۔ پڑھی لکھی عورت معاشرتی و سماجی قدروں کو احسن طریقے سے ادا کرتی ہے۔ کم عمری میں شادی کر دینے پر قوانین موجود ہیں۔ مگر بدقسمتی سے قوانین پر عملدآمد نہیں ہوتا ۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے قانونی طور پر کم سے کم عمر 16 سے 18 سال مقرر کر دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود دیہاتوں میں کم عمر بچوں کی شادیوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔ نتیجتاً پیدا ہونے والے بچے بھی موت و حیات کی کشمکش میں رہتے ہیں اور ان کی بہت بڑی تعداد پیدائش کے چند گھنٹوں کے اندر ہی موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ کم عْمری اور زبر دستی کی شادیوں کے مسائل ایک دوسرے سے باہم جْڑے ہوئے ہیں۔جو کہ حکومتی توجہ کی مستحق ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ جو قانون پر عملدرآمد کروانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے اسی صورت میں کم عمری کی شادیوں پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور معصوم بچے اور بچیوں کو ایک بڑی اذیت سے بچایا جا سکتا ہے۔ ( محمد شعیب،لاہور)