لاہور(نمائندہ خصوصی سے ) انتظامی معاملات چلانے کیلئے کنٹریکٹ کی بنیاد پر ایم پی ون سکیل پر کام کرنے والے آفیسرزکو کی جانے والی ادائیگیاں سینئر حاضر سروس بیو روکریٹس کے لئے ذہنی تناؤ کا سبب بن گئیں تاہم وہ با اختیار کہلانے کے باوجود اس معاملے پر بے اختیار دکھائی دیتے ہیں۔ ایس اینڈ جی اے ڈی کے معتبرذرائع کے مطابق سول انتظامی معاملات کو چلانے کیلئے ماضی بعید میں2003-04میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ریگولر سرکاری افسروں کے ساتھ ساتھ مختلف محکموں میں MP-1 سکیل کا فارمولا متعارف کرایا گیا۔ جس کے تحت لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ اور الاؤنسز کے کنٹریکٹ پر افراد کو وفاقی، صوبائی اور ذیلی اداروں میں کھپایا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ابتدائی دنوں میں اپنی فیلڈ کے ماہرٹیکنیکل افراد کو ایم پی ون فارمولے کی روشنی میں ماہانہ5لاکھ روپے تک ادائیگی کی جاتی تھی، الاؤنسز اس کے علاوہ تھے جبکہ اس وقت یہ ادائیگی تقریباً7لاکھ روپے کے قریب ہے اور الاؤنسز اس کے علاوہ ادا کئے جاتے ہیں۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کے مطابق اس وقت گریڈ20کے ریگولر حاضر سروس سرکاری آفیسر کی تنخواہ بنیادی پے سکیل کے مطابق زیا دہ سے زیادہ اڑھائی لاکھ روپے تک ہے ۔ BPS-21کے صوبائی انتظامی سیکرٹری کو ساڑھے 3لاکھ روپے تک ادائیگی ماہانہ تنخواہ کی مدمیں کی جاتی ہے جبکہ چیف سیکرٹری اور دیگر گریڈ22کے افسروں کی ماہانہ تنخواہ چار سے پانچ لاکھ کے درمیان ادا کی جاتی ہے جبکہ دوسری جانب سیکرٹری قانون کی تنخواہ چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے بھی زیادہ ہے ۔ سیکرٹری قانون کو ماہانہ تنخواہ کی مد میں ساڑھے 7لاکھ روپے ادا کئے جا رہے ہیں ، تو وہ اپنی سابقہ ملازمت کے حوالے سے پنشن کی مد میں سوا لاکھ روپے الگ سے وصو ل کر رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ سابق دور حکومت میں بھی ایم پی ون کے تحت بھاری تنخواہوں کا معاملہ اٹھایا گیا جو بدستور قائم ہے اور اس کیلئے حکومت پنجاب کسی طرح کی حکمت عملی نہیں اپنا سکی ہے ۔ جس کے سبب ریگولرحاضر سروس سول بیوروکریٹس کی ذہنی پریشانیاں ختم نہیں ہو سکیں اور ان کے تحفظات جوں کے توں ہیں۔