ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 82 مریض انتقال کر گئے ہیں جس کے بعد کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10258ہو گئی ہے۔ ادھر گذشتہ روزپی ڈی ایم کی قیادت میں ا یک ریلی بہاولپور میں ہوئی ہے۔ جلسے جلوس اور اجتماعات سے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں روزانہ بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ رہنما جنہوں نے قوم کی قیادت کرنا ہوتی ہے وہی پابندی نہ کریں تو عام آدمی سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ قبل ازیں بھی ایسے ہی اجتماعات کے بعد کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں کورونا وائرس کی دوسری لہر سے پریشان ہیں، لیکن ہمارے ہاں اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، کورونا کی یہ لہر گزشتہ سال کے اوائل سے لے کر اگست میں جاری رہنے والے لہر سے زیادہ شدید ہے۔ لہذا اجتماعات میں جانے سے پرہیز کیا جائے۔ بازاروں میں انتہائی ضرورت کے تحت خریداری کی جائے۔ ماسک کا مستقل استعمال کیا جائے۔ زیادہ سردی میں جانے سے گریز کیا جائے کیونکہ کورونا وائرس شدید موسم سرما میں زیادہ پھیلتا ہے، ایک دوسرے سے فاصلہ رکھا جائے اور حکومت نے کورونا کے حوالے سے جو ایس او پیز جاری کیے ہیں ان کی پابندی کی جائے تا کہ کورونا کی تباہ کاریوں کو کم سے کم کیا جا سکے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار بھی کورونا کا شکار ہوئے تھے ۔انھوں نے آئسولیشن اختیار کی اوراس موذی وائرس کی اذیت کے باوجودوہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں مگن رہے۔اللہ تعالیٰ انھیں مکمل صحت یابی سے ہمکنار کرے تاکہ وہ خلق خدا کی خدمت کرتے رہیں ۔