اسلام آباد (نامہ نگار، وقائع نگار، آن لائن، صباح نیوز)سینٹ میں اپوزیشن جماعتیں دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئیں،تین جماعتوں نے اپوزیشن لیڈ ر یوسف رضا گیلانی پر سوالات اٹھا دئیے ، پیپلز پارٹی اور دلاور خان گروپ الگ دھڑے کے طو ر پر سامنے آ گیا،بلوچستان کے پانچ ارکان کو تحفہ قرار دینے پرایوان میں شور شرابہ ہوگیا، 27 ارکان سینٹ نے آزاد اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا ۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر اعظم نذیرتارڑ آزاد اپوزیشن کے رہنما ہونگے ۔اجلاس میں کورونا ویکسین ہرشہری کو مفت لگانے یا ویکسین کی قیمت کم کرکے اسے عالمی قیمت کے برابرکرنے کی اپوزیشن کی قراردادمنظور کرلی گئی۔ اجلاس میں پاکستان سنگل ونڈو کے قیام کیلئے احکامات وضع کرنے کا بل منظور کر لیا گیا۔ فنکشنل، فنانس، ہاؤس، لائبریری اور دیگر قائمہ کمیٹیوں کے قیام کی تحریک کو منظور کر لیا گیا۔سینٹ الیکشن کے بعد ایوان بالا کا پہلااجلاس چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں حکومت کو کورونا ویکسین کے معاملے پر ایک قرارداد کے ذریعے شکست ہو گئی ، حکومت کی طرف سے قرارداد میں ترمیم پر اصرار کیا جاتا رہاتاہم اپوزیشن ڈٹ گئی۔ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے قرارداد پیش کی کہ حالیہ معاشی صورتحال میں عوام کیلئے یہ ممکن نہیں کہ کورونا ویکسین کی بہت زیادہ قیمت کا متحمل ہو لہٰذا عوام کو انسداد کورونا ویکسین کی یا تو مفت یا عالمی منڈی کے مطابق اصل قیمت پر فراہم کریں۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ حکومت ترمیم شدہ قرارداد کی حمایت کیلئے تیار ہے ، قرارداد سے حکومتی ناکامی کے الفاظ حذف کئے جائیں۔ سینیٹرکامران مرتضیٰ نے مطالبہ کیا کہ قرارداد پر رائے شماری کروائی جائے ۔ یوسف رضا گیلانی نے جے یو آئی کی حمایت کی۔ چیئرمین سینٹ نے رائے شماری کر ائی۔ اپوزیشن کے 43 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی۔ حکومت اور اسکی اتحادی جماعتوں کے 31 ارکان نے مخالفت کی۔اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے تحریک پیش کی کہ چیئرمین سینٹ کو متذکرہ کمیٹیوں کی تشکیل میں جب جیسا مناسب سمجھیں تبدیلیوں کا اختیار اور کمیٹیوں کے انتخاب کو مکمل کیا جائے ، تحریک کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بااختیار سینٹ کے بارے میں پیپلزپارٹی کے رضا ربانی نے آئینی ترمیمی پیکیج پیش کیااور گیارہ آئینی شقوں میں ترامیم تجویز کی ، حکومت کی طرف سے بیشتر ترامیم کی مخالفت کی گئی ، چیئرمین سینٹ نے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی کمیٹی کو چلا گیا۔اجلاس میں (ن) لیگ کے رہنما اعظم نذیرتارڑ نے اعلان کیا کہ ستائیس ارکان سینیٹ آزاد اپوزیشن میں بیٹھیں گے ، پانچ جماعتیں مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ستائیس ارکان کی الگ حیثیت ہو گی ، سینیٹ میں خفیہ کیمرے لگائے گئے ،تحقیقات ہونی چاہئیں ۔چیئرمین سینٹ نے اعلان کیا اسکی فرانزک تحقیقات ہونگی۔ سینیٹر اعظم تارڑ کی تقریر پر حکومتی ارکان نے شورشرابہ کرتے ہوئے الفاظ واپس لینے کیلئے کہا۔ گیلانی کی حمایت کرنیوالے سینیٹرز نے بھی احتجاج کیا ۔ یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ سینیٹ کا الیکشن بہت مشکل الیکشن ہے مجھے یہ اب محسوس ہوا۔ اگر حکومت کو کسی جگہ مشکل پیش آئی تو اسکی آواز بنیں گے ،عوام کی ترجمانی ہمارا فرض ہے ۔ گیلانی کی حمایت کرنیوالے دلاور خان گروپ نے بھی الگ نشستیں مانگ لیں۔ایوان بالا میں شدید گرما گرمی پر دلاور خان گروپ نے سینٹ سے الگ نشستیں الاٹ نہ کرنے پر واک آئوٹ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے رویہ سے دلبرداشتہ ہوکر بطور احتجاج جا رہے ہیں۔اجلاس کے دوران چار جماعتیں اپوزیشن بینچوں کی طرف پہلی قطار میں قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں کو نشستیں فراہم نہ کرنے پر واک آؤٹ کر گئیں۔بعدازاں نئی سینٹ کا پہلا اجلاس ایک دن جاری رہنے اورایجنڈا مکمل ہونے کے بعد غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ادھر سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پی ڈی ایم میں تقسیم واضح ہو گئی، سینٹ اجلاس سے پہلے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ڈی ایم کی 5جماعتوں کا مسلم لیگ ن کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔مسلم لیگ ن، جے یو آئی، پی کے میپ، نیشنل پارٹی اور بی این پی مینگل کے سینیٹرز شریک ہوئے جبکہ پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا تنہا اجلاس ہوا جس کی صدارت یوسف رضا گیلانی نے کی۔