حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جلسوں کے ذریعے کورونا پھیلانے پر منتظمین کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد غیر ذمہ داری کا ثبوت دینے پر تلا ہوا ہے۔ خود وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم عوام کی جانوں سے کھیل رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بار بار کورونا کے باعث اپوزیشن کو جلسوں کا سلسلہ روکنے کی اپیل اس لحاظ سے قابل فہم ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی ہر روز تعداد ڈھائی ہزار سے اوپر جا چکی ہے جبکہ روزانہ 30کے قریب افراد جاں بحق ہو رہے ہیں۔ ہفتے کے روز 4 ماہ کے دوران سب سے زیادہ تعداد میں لوگ مرے‘ مرنے والوں کی گنتی 42تک جا پہنچی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے جاری اعداد و شمار کے مطابق مثبت کیسز کی شرح 6.6فیصد تک ہو گئی ہے۔ یہ اعداد وشمار دیکھیں تو پشاور میں ہونے والا پی ڈی ایم کا جلسہ لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ دکھائی دیتا ہے۔جلسے کے دوران سٹیج پر تشریف فرما بہت سے افراد ماسک جیسی بنیادی احتیاط سے بیگانہ نظر آئے۔جلسہ گاہ میں موجود افراد کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی خاص ہدایات نہ تھیں ورنہ یوں ایک دوسرے کے ساتھ لگے شرکاء بے احتیاطی کا مظاہرہ نہ کرتے۔اس وقت پاکستان ہی نہیں ساری دنیا کورونا کی نئی لہر کی زد میں ہے ۔تمام ممالک اپنی انتظامی صلاحیت کو بہتر بنا رہے ہیں۔ کورونا کے دوران دیگر سرگرمیوں کی طرح دنیا بھر کے سیاست دان لوگوں سے آن لائن رابطوں کو رواج دیتے نظر آتے ہیں۔ امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری اپ ڈیٹ گائیڈ لائنز میں میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے بیشتر کیسز کا سبب وہ افراد ہوتے ہیں جن میں کوویڈ 19 کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔سی ڈی سی کے مطابق یہی ایک مرکزی وجہ ہے جو فیس ماسک کے استعمال کی اہمیت ظاہر کرتی ہے۔گائیڈ لائنز کے مطابق کوویڈ 19 کے بیشتر کیسز کی وجہ بغیر علامات والے مریض ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کم از کم 50 فیصد نئے کیسز کے پیچھے ایسے افراد ہوتے ہیں جن کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے افراد تک اسے منتقل کررہے ہیں۔سی ڈی سی کے مطابق دیگر افراد تک وائرس منتقل کرنے والے 24 فیصد افراد میں کبھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ 35 فیصد میں کچھ دنوں بعد ظاہر ہوتی ہیں جبکہ 41 فیصد افراد علامات کا شکار ہونے کے بعد دیگر کو اس بیماری سے متاثر کرتے ہیں۔امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ بیماری کے 5 دن بعد ایک مریض سب سے زیادہ متعدی ہوتا ہے، اس تصور کو مدنظر رکھا جائے تو 59 فیصد کیسز کی وجہ ایسے افراد ہوتے ہیں، جن میں اس وقت تک علامات ظاہر نہیں ہوئی ہوتیں۔سی ڈی سی نے مزید بتایا کہ کپڑے کے فیس ماسکس لوگوں کو ان وائرل ذرات سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل بعض جماعتیں کورونا پھیلائو کے خدشات کو سیاسی کھیل کی حیثیت میں دیکھ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام خاص طور پر عوام کو یہ بتا رہی ہیں کہ حکومت کورونا کی آڑ میں پی ڈی ایم کے جلسوں کو روکنا چاہتی ہے۔ پی ڈی ایم نے اب تک جس شہر میں جلسہ کیا وہاں کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے خط لکھ کر منتظمین کو یاد دہانی کرائی کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر شدت پکڑ رہی ہے۔ لہٰذا جلسے کا پروگرام منسوخ کر دیا جائے۔ اب تک اپوزیشن نے انتظامی افسران کی اس اپیل کو سنجیدگی سے نہ لے کر ثابت کیا ہے کہ اسے ان غریب اور مفلس افراد کی ذرا پرواہ نہیں جنہیں مقامی سیاستدان جلسہ بھرنے کے لئے گاڑیوں اور ٹرکوں میں بھر کر لاتے ہیں۔ کورونا پھیلائو کو روکنے کے لئے کچھ ذمہ داریاں حکومتی اداروں پر بھی عاید ہوتی ہیں۔ اب تک دیکھا گیا ہے کہ پورے شہر میں لاک ڈائون کی بجائے ان گلیوں میں لاک ڈائون لگایا جاتا ہے جہاں سے کورونا کے کیس سامنے آتے ہیں۔ یہ عمل یقینا پورے شہر کی نقل و حرکت اور معاشی سرگرمیوں کو بچانے میں مدد دے رہا ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ بازاروں اور شاپنگ سنٹروں میں آنے والے افراد ہر احتیاط کی خلاف ورزی کر رہے ہیں‘ ہاتھوں کو سینی ٹائزر کی مدد سے جراثیم سے بچانا‘ اور ماسک کا استعمال بنیادی احتیاط کے ضمن میں آتے ہیں۔ حکومت تاجر تنظیموں اور انتظامی افسران کو اس معاملے میں برتی جانے والی کوتاہی دور کرنے کی ہدایت جاری کرے تاکہ کاروباری مراکز کو بند کرنے کی نوبت نہ آ سکے۔ حکومت اور انتظامی ادارے اس بات کے پابند ہوتے ہیں اور وہ عوام کے جان و مال اور آبرو کا تحفظ کریں۔ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کی طرح پاکستان کے لوگوں کو بھی اپنی معاشی‘ سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ ابھی چند روز قبل چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کورونا کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے‘ علامہ خادم حسین رضوی کی رحلت بھی کورونا کا کیس معلوم ہوتی ہے۔ ان حالات میں سیاسی ضد سے عام شہریوں کے لئے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔اصل عوام دوستی یہی ہے کہ ہر قسم کے بڑے اجتماعات سے مکمل طور پر گریز کیا جائے۔