حکومت کی جانب سے جاری کورونا ایس او پیز کے مطابق صرف 50مسافروں کو بٹھانے کے حکم کے بعد انٹرسٹی ٹرانسپورٹروں نے کورونا کی آڑ میں مسافروں سے ڈبل کرایہ کی وصولی شروع کر دی ہے تاہم پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے پنجاب بھر میں ہنگامی گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیدیا ہے جس کے بعد درجنوںبسیں بند کر دی گئی ہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ جب ٹرانسپورٹروں کو صرف 50فیصد مسافروں پر ہی اکتفا کرنے کا کہا گیا تو وہ اپنا خسارہ کرائے کی صورت میں ہی پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایس او پیز تو جاری کیے گئے ہیں لیکن چیک اینڈ بیلنس کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے ڈبل کرائے کی وصولی ہو رہی ہے۔ کورونا نے جس طرح تباہی مچا رکھی ہے اس میں شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ انتہائی ضرورت کے تحت ہی سفر کریں تاکہ وہ کورونا اور دوہرے کرائے کے عذاب سے بچ سکیں۔ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپورٹروں کو آپے سے باہر نہ ہونے دے، ان سے ایس او پیز کی پابندی کرائے اور مسافروں کی ڈبل کرائے کی شکایات کا ازالہ کرے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹروں کو بھی کورونا سے پیدا ہونے والی شہریوں کی مشکلات کا احساس کرنا چاہیے اور انہیںمحض ذاتی مفادکے لئے ڈبل کرائے کی اذیت سے دوچار کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کوروناسے پیدا شدہ موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہر شہری ایک دوسرے سے تعاون کرے تاکہ کورونا کی اس شدید لہر سے نکلا جا سکے۔