لاہور(شکیل سعید ) وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج طلب کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ، آئینی ماہرین کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال کے تحت فوج طلب کی جاسکتی ہے ۔آئینی ماہر اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آئین میں صوبائی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ فوج طلب کرسکتی ہے اسی آرٹیکل کے تحت فوج طلب کی گئی ہے لیکن ابھی ایمرجنسی نہیں لگائی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232کے تحت ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے اور 233کے تحت بنیادی حقوق معطل کردئیے جاتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں حکومت کی جانب سے ایمرجنسی نہیں لگائی گئی اور نہ ہی بنیادی حقوق معطل کیے گئے ہیں صرف فوج کو طلب کیا گیا ہے تاکہ کرونا کی صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگر ایمرجنسی لگائی جاتی ہے تو آئین کے آرٹیکل 236کے تحت ایمرجنسی کو ختم بھی کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فوج صرف حکومت کی جانب سے دی جانے والی گائیڈ لائن پر ہی عمل کرتی ہے ۔لیکن اگر ایمرجنسی لگا دی جائے تو بنیادی حقوق معطل کرکے گائیڈ لائن پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت آرٹیکل 245کے تحت فوج تعینات کی گئی ہے لیکن ایمرجنسی نہیں لگائی گئی ، کرونا کی وباء کو روکنے کے لیے ایمرجنسی لگانی چا ہئے تھی اور بنیادی حقوق معطل کرکے کام کرنا ہئے تھا ۔