خواجہ فرید کی ایک کافی کا ’’مکھڑا‘‘ اس طرح ہے کہ ’’کینکوں حال سناوا دلدا، کوئی محرم راز نہ ملدا‘‘ یہ وہ مشہور زمانہ کافی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے مقدمے کے دوران سرائیکی زبان اور خواجہ فریدؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پڑھی، مقدمے کی کارروائی کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔ مقدمے کے حوالے سے خواجہ فرید کا پیغام پوری دنیا میں پہنچا۔ سینئر صحافی شاہد جتوئی کی کتاب محرم راز کے نام سے شائع ہوئی ہے جو کہ اُن کے اخبار میں لکھے گئے کالموں کا مجموعہ ہے۔ فرید پبلشرز کراچی کی طرف سے شائع ہونیوالی اس کتاب میں 124 مضامین شامل ہیں جن میں ’’صدیا ں سچ بولتی ہیں، موہنجودڑو اور گڑھی خدا بخش، روٹی روٹی روٹی، تھر اور چولستان میں فرق، بینظیر کی واپسی، ایک اور 16 دسمبر، ایک تھا گامن سچار، آئیے مولانا سندھی سے رجوع کرتے ہیں، بھگت سنگھ کو مقررہ وقت سے پہلے پھانسی کیوں دی گئی، مقامی آدمی سے معافی اور مقامی آدمی کی تلاش، نواب مظفر خان شہید یاد آگئے، اور بھی ہیں صلاح الدین ایوبی‘‘ یہ اور ان جیسے بہت سے مضامین پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے ایک کالم روٹی روٹی روٹی کا ذکر کیا اس میں محترم شاہد جتوئی لکھتے ہیں کہ 19ویں صدی میں ایک برطانوی تاجر سیسل جون رہوڈز نے جنوبی افریقا میں جا کر نہ صرف خوب دولت کمائی بلکہ وہ کیپ کالونی کا وزیر اعظم بھی بنا۔ سونے اور جواہرات کے کاروبار پر اس نے پوری دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم کی۔ 1902ء میں جب اس کا انتقال ہوا، وہ دنیا کا امیر ترین آدمی تھا۔ جنوبی افریقہ کے کچھ علاقوں کو اس کے نام کی مناسبت سے رہوڈیشیا کا نام دے دیا گیا۔ رہوڈیشیا کے کچھ علاقے آج زمبابوے اور کچھ زمیبا میں شامل ہیں۔ سیسل رہوڈذ کی وصیت کے مطابق اسے جنوبی رہوڈیشیا (موجودہ زمبابوے) کے میٹا پوس پہاڑ کی چوٹی پر دفنایا گیا۔ اب افریقہ خصوصاً زمبابوے میں یہ مہم چلی ہوئی ہے کہ سیسل رہوڈز کی لاش قبر سے نکال کر جلا دی جائے یا اس لاش کو واپس برطانیہ بھیج دیا جائے کیونکہ رہوڈز نو آبادیاتی نظام کا سب سے بڑا حامی تھا اور اس نے افریقہ کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جیسے شخص کی افریقی سرزمین پر قبر بھی نہیں ہونی چاہئے۔ اگرچہ وہ قبر ابھی تک موجود ہے لیکن نو آبادیاتی نظام کے خلاف نفرت کی علامت بنی ہوئی ہے۔ محرم راز لمحہ موجود کی بہترین کتاب ہے جس میں ملکی و عالمی حالات کا خوبصورت اور دلنشیں انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ زبان شستہ اور اسلوب نہایت خوبصورت ہے۔ کتاب بارے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے مختصر مگر جامع تبصرہ کیا ہے جناب محمود شام لکھتے ہیں کہ شاہد جتوئی کا دل اور قلم ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں گہرائی ان کے مطالعے کے سبب ہے۔ ان کی زبان میں چاشنی ان کی ادب پر گہری نظر ہے۔ بیان میں دلبری ان کی انسانیت کے درد میں ڈوبنے کی بدولت ہے۔ شاہد نذیر لغاری لکھتے ہیں کہ شاہد اپنے ان کالموں میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرائیکی وسیب، خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر کے حقیقی ہیروز کی تلاش کرتا نظر آتا ہے۔ اگر آپ کے پاس ان کا اتہ پتہ، نام و نشان ہو تو شاہد جتوئی کو ضرور آگاہ کیجئے۔ وہ ایک دھرتی واس کے طور پر اپنے ہیروز کے نام اور کام کو ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں۔ وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ بہت سے کالم نگاروں کے بیانوں میں ایسی خوبی ہوتی ہے۔ کئی برس بعد جب کوئی محقق کسی زمانے، واقعہ یا خبر پر تحقیق کرے تو یہ کالم اس کے لئے سورس میٹریل کا کام دیتے ہیں۔ شاہد کے کالموں میں یہ عنصر موجود ہے۔ پروفیسر انوار احمد زئی لکھتے ہیں کہ شاہد جتوئی کا ہر کالم متقاضی ہے کہ اسے حوالہ بنایا جائے۔ ان کالموں میں بعض تو ایسے ہیں جنہیں ہمارے عہد کی تصویریں کہنا زیادہ مناسب ہے۔ ان کے ذریعے بہت سے راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھتا ہے۔ سہیل دانش لکھتے ہیں کہ شاہد کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ وہ سچ نہیں چھپاتے اور جھوٹ نہیں بولتے۔ شاہد جتوئی نے اپنے کالموں میں تاریخ کے اوراق بھی پلٹے ہیں۔ وہ اپنے کالموں میں حقائق کریدتے نظر آتے ہیں۔ ہماری قومی تاریخ کے تلخ اور کٹھن مراحل ایسی خوبی سے گزار دیتے ہیں کہ ان میں جانبداری کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ ارشاد امین لکھتے ہیں کہ شاہد جتوئی کے ان انمول کالموں کی اشاعت خوش آئند ہے کیونکہ وہ الیکٹرانک میڈیا کے منہ زور مگر ناقابل اعتبار گھوڑے کا سوار بن چکا ہے جو کہ اس کا میدان نہیں، میں تو اسے یہ کہوں گا واپس آجا پیارے۔ جناب شاہد جتوئی کا تعلق وسیب کے شہر فاضل پور ضلع راجن پور سے ہے۔ اپنی دھرتی، اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وسیب سے کوئی بھی شخص کراچی جائے تو بے پناہ محبتیں دیتے ہیں۔ اُن کی محبت ہے کہ جونہی اُن کو میری کراچی آمد کا پتہ چلا وہ ملنے آئے اور اپنی کتاب کا تحفہ دیا۔ کتاب دیکھ کر بہت خوشی ہوئی میں نے کہا کہ نئی کتاب کی اتنی خوشی ہوتی ہے، جتنی بچے کی پیدائش کی۔ میں نے شاہد جتوئی سے کہا کہ آپ نے بڑا کام کر دیا ہے یہ بھی آپ کی خوبی ہے کہ آپ نے وسیب کی روایات کو زندہ رکھا ہوا ہے ورنہ ہم نے کراچی میں یہ بھی دیکھا کہ کچھ لوگ کراچی میں اپنے وسیب کے لوگوں کو ملنے کیلئے بے تاب رہتے اور تلاش کرکے ملتے، اب وسیب کی وجہ سے اُن کو شناخت ملی ہے تو وہ وسیب کے لوگوں کو ملنے سے کتراتے ہیں حالانکہ جب ان لوگوں کے پاس کچھ نہ تھا تو وہ وسیب سے محبت اور سوچ کے حوالے سے بڑے تھے اور آج گو کہ وہ مالی لحاظ سے بڑے ہو گئے مگر وہ سوچ کے اعتبار سے نہایت ہی چھوٹے بن گئے ہیں۔ ہر وہ شخص بڑا ہے جو اپنے لئے نہیں دوسروں کیلئے زندہ ہے۔ کراچی میں وسیب کے لوگوں کی فلاح کیلئے جن شخصیات نے کام کیا اُن میں ایک نام مہر شکیل کا بھی ہے ملاقات پر وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ ایک وقت کراچی میں تحریک کا بہت کام ہوتا تھا اب دوست ہر بات پر صرف اعتراض کرتے ہیں۔رونے پر بھی اعتراض ہے اور ہنسنے پر بھی اعتراض ہے۔ دوستوں کے رویے کے حوالے سے مجھے شاہد جتوئی کے کالم ’’وہ ہنسنے دیتے ہیں نہ رونے دیتے ہیں‘‘ کی چند لائنیں یاد آئیں جو آپ کی نظر کرتا ہوں۔ شاہد جتوئی لکھتے ہیں کہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے گورنر ’’نور بیکری‘‘ کا گزشتہ دنوں یہ بیان شائع ہوا کہ وہاں موجودکچھ لوگ یہ پابندی عائد کر رہے ہیں کہ شادیوں پر ہنسا نہ جائے اور موت پر رویا نہ جائے۔ اس طرح نہ وہ ہنسنے دیتے ہیں اور نہ رونے دیتے ہیں۔ ان کی اس بات پر ہمیں بے اختیار ہنسی آگئی۔ اب پتہ نہیں یہ ہنسی ’’گناہ‘‘ کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔