لاہور ( رانا محمد عظیم) کیپٹن صفدر کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں بھرپور شرکت کے اعلان سے ن لیگ کے اہم ذمہ داران سخت ناراض ہوگئے ، ن لیگ کی ایگزیکٹیو کونسل کے فیصلوں اور دھرنے کے حوالے سے شہباز شریف کی بجائے کیپٹن صفدر کے اعلان کرنے پر ن لیگ کے اندر نہ صرف اختلافات مزید بڑھ گئے ہیں بلکہ اس معاملے پر نیوٹرل لیگی رہنماؤں نے بھی کیپٹن صفدر کے اس اعلان کو پارٹی کیلئے غلط قرار دینا شروع کر دیا ہے ۔ با وثوق ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے ایگزیکٹیو کونسل کے اجلاس میں دھرنے میں شرکت کے حوالے سے کئی اہم ترین رہنماوں نے اعتراض کیا تھا،کئی رہنماوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ مولانانے لیگی رہنماؤں کی درخواست کے باوجود دھرنا نومبر میں لیجانے کی درخواست کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ اکیلے ہی دھرنے کی تاریخ کا اعلان کر کے ن لیگ کی کمیٹی کو نیچا دکھایا ، اب اگر ہم اس کے مطابق جاتے ہیں تو مسلم لیگ ن کی اہمیت کم ہوگی۔اجلاس کے بعد فیصلہ ہوا کہ شہباز شریف، نوازشریف کو اس صورتحال سے آگاہ کریں گے اور انہیں کہا جائے گا کہ دھرنے میں علامتی طور پرشرکت کریں اوردھرنے کی تاریخ آگے لیجانے کیلئے بھی اپنا زور لگائیں۔اجلاس میں شریک نوازشریف کے انتہائی قریب رہنماؤں نے کسی ذریعہ سے نوازشریف تک یہ بات پہنچا دی تھی کہ یہ معاملہ ہے ،اس پر سٹینڈ لیکر دھرنے کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیں ۔نوازشریف نے پیغام ملنے کے بعد کسی ذریعہ سے شہباز شریف سمیت دیگر رہنماوں تک یہ پیغام پہنچا یا تھا کہ ہر حال میں دھرنے میں بھرپور شرکت کی جائے اور فیصلہ وہی ہو گا جو فضل الرحمان کہیں گے ۔ شہباز شریف بھی اسی لئے کمر درد کی آر میں بھائی کو ملنے نہ گئے کہ انہیں پہلے ہی کہا گیا تھا کہ فضل الرحمان کی بات مانی جائے ۔ کیپٹن صفدر کو نوازشریف نے ہدایت کی کہ تم جا کر دھرنے میں بھرپور شرکت کے حوالے سے اعلان کرو، تمہارا اعلان میرا اعلان سمجھا جائے گا اور ساری پارٹی کو بھی واضح پیغام جائے گا کہ مریم اورمیرا پیغام کیپٹن صفدر کے ذریعے ہی آ ئے گا۔ شہباز شریف سے جب مولانا فضل الرحمان ملنے گئے تھے تو اس وقت بھی کیپٹن صفدر نے علیحدگی میں مولانا فضل الرحمان سے کہا تھا کہ دھرنے کے حوالے نوازشریف کے فیصلوں اور پیغام رسانی کا اختیار میرے پاس ہے ،آپ مجھ سے رابطہ رکھیں ۔ کیپٹن صفدر اور مولانا کے درمیان اس کے بعد بھی کئی رابطے ہوئے اور فضل الرحمان نے انہی رابطوں کی بنیاد پرکہا تھا کہ ن لیگ میرے ساتھ ہو گی ۔شہباز شریف سمیت دیگر اہم رہنماؤں کے فیصلے اور رائے کو نوازشریف کے آگے مسترد کرانے میں قائد ن لیگ کے قریبی پانچ رہنماؤں کا کردار ہے ۔