الیکشن کمیشن نے 15نومبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کراچی اور حیدر آباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات 15جنوری کو کرانے کا حکم دیا ہے اور انتخابات ملتوی کر نے کی سندھ حکومت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔سندھ حکومت کی شروع دن سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ صوبہ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کر دیئے جائیں جس کے لئے مختلف مسائل کو جواز بنایا گیا لیکن دوسری جماعتوں اور شہریوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کا مطالبہ تسلسل سے کیا جا رہا تھا۔ اس میں دو رائے نہیں کہ نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور شہری ترقی کے لئے بلدیاتی اداروں کا وجود ضروری ہے جو بلدیاتی انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم جمہوریت کی بنیاد ہے، شہری ترقی بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے اور لوگوں کے مسائل ان کے مقامی نمائندوں کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں، بلدیاتی ادارے ایسی نرسریاں ہیں جن سے قومی سطح پر عوام کے نمائندے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس لئے دوسرے صوبوں کے ان علاقوں میں بھی بلدیاتی الیکشن کرائے جانے چاہئیں جہاں ان کا انعقاد ممکن ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرائے اور آئندہ سال 15جنوری کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے تمام ممکنہ کوشش بروئے کار لائے۔سیکرٹری داخلہ اور آئی جی سندھ کو بھی چاہیے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں سکیورٹی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔