وقت اس سے اور بڑھ کر کیا برا آنے کو ہے آسمانوں سے تو بس اب اک ندا آنے کو ہے جانتے ہیں سب کے سب پر مانتا کوئی نہیں کون جانے کس گھڑی کیا فیصلہ آنے کو ہے آپ ہی بتائیے کہ اب لکھنے کو کیا رہ گیا ہے۔ بس نوشتہ دیوار پڑھیئے۔ آج تو اخبار پر ایسے شہ سرخی جمی ہے کہ آنکھیں چندھیا گئی ہیں۔ دماغ مائوف ہو گیا ہے اور اوسان خطا ہو گئے ہیں۔ آپ نے کتاب تو پڑھی ہو گی قسطوں میں موت۔ شوکت ترین نے اعلان کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں ہر ماہ بڑھیں گی اور بجلی چند ماہ۔ ہائے جو بھی آتا ہے ہمیں اور رلا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ایسے اعلان کیا گیا جیسے کوئی مہم سری گئی ہے یا کوئی کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے۔ معاہدہ کرنے والوں سے خوشی سنبھالی نہیں جا رہی۔ کیوں نہ ہو کہ پاکستان کو ایک ارب پانچ کروڑ ڈالر قرض ملے گا۔ تفصیل چھوڑیئے مڈل کلاس کا کچومر نکل جائے گا۔ وہ وقت کیسا تھا جب ہم خان صاحب ک کہتے تھے کہ وہ مر جائیں گے پر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے اور اب لگتا ہے کہ وہ ان کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ اب کمبل انہیں نہیں چھوڑے گا۔ اس خود سپردگی کا کسی نے سوچا ہی نہیں تھا۔ عوام کو نفسیاتی ٹریٹ منٹ دیا جارہا ہے کہ باٹا ریٹ پر بھی 4.95روپے کے حساب سے ہر ماہ پٹرول بڑھے گا۔ کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے۔ عوام بے چارے گراہ رہے ہیں۔ لوگوں کو دوسرے معاملات میں الجھا دیا گیا ہے کہیں وڈیو ریلیز ہو رہی ہے تو کہیں اس کو رد کیا جارہا ہے۔ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں۔ عزت اور آبرو منہ چھپاتی پھر رہی ہے کہ اس دور میں سب سے بے توقیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ پہلے سنتے تھے جب آئے گا عمران اب لوگ پوچھتے ہیں کب جائے گا عمران۔ دیکھئے کیا بنتا ہے ابھی تو صرف سود کی قسطیں اتر رہی ہیں۔ کیا کریں کدھر جائیں قطرہ قطرہ نہیں اب تو بارش ہے۔ شکیب جلالی یاد آئے: اے میرے دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے سچی بات تو یہ ہے کہ لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ انہیں دھوبی کے کپڑوں کی طرح نچوڑا جارہا ہے۔ حیرت ان لوگوں کی بات سن کر ہوتی ہے جو سوال کرتے ہیں کہ کیسی مہنگائی‘ سب کچھ تو ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ جی یقیناً ان ہاتھیوں کے لیے کوئی مہنگائی نہیں جو تنخواہ کو بونس سمجھتے ہیں۔ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہاتھی کی طرح الٹا سوا لاکھ کے ہو جاتے ہیں۔ وہ یہاں ٹھہرنا بھی کسر شان سمجھتے ہیں۔ ان کا ٹھکانا لندن یا واشنگٹن ہوتا ہے۔ ان کے لیے کیا مہنگائی ہے جو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے قصاب کو کہتے ہیں ران والا حصہ اتار کرتول دو اور دوسری طرف وہ جن کے ماتحت ملازم ہی سب کچھ مہیا کردیتے ہیں۔ ہم تو ان کیڑے مکوڑوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو خون پسینہ ایک کر کے بھی دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں: تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات اب ثاقب نثار والا معاملہ سامنے آ گیا ہے تو یقیناً اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔ اگر جعل سازی ہے تو اسے بے نقاب ہونا چاہیے۔ دوسری طرف نوازشریف کی تقریر مسئلہ بنی ہوئی ہے کہ وکلا کانفرنس میں ایک مفرور شخص سے تقریر کیوں کروائی گئی۔ کیا یہ سوال نہیں بنتا کہ مفرور شخص کوکیوں بھگایا گیا اور پھر اسے واپس لانے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ سخت صدمہ ہوتا ہے کہ اب تک سب کو گولی دی جا رہی ہے کہ برطانیہ کو درخواست دے دی ہے۔ خدا کے لیے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں کیا آپ یہی کچھ کرنے آئے تھے۔ آپ تو سب کچھ سنبھالنے آئے تھے آپ نے تو پہلا سب کچھ بھی بکھیر دیا۔ آپ کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم ملکی ترقی چاہتی ہے نہ عوامی خوش حالی۔ آپ کی بات مان لیتے ہیں۔ اب بتائے آپ کیا چاہتے ہیں۔ صرف ہمارا خون نچوڑنا اور قرض لینا۔ ہم بھی سوتے تھے کبھی خواب سرہانے رکھ کر ہاں مگر گردش انجام سے پہلے پہلے ہماری تو خارجہ پالیسی بھی کسی سی سا See.Saw جیسی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا یہ سی سا جس پر بچے بیٹھتے ہیں ایک طرف سے اٹھ جاتا ہے تو کبھی دوسری جانب کا بچہ زور ڈال کر دوسرا حصہ اٹھا دیتا ہے۔ کبھی ہم چین کی باتیں کرتے نہیں تھکتے اور سی پیک کی باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ کبھی ہمیں یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق۔ حالانکہ جو کرنا ہے وہ تو شیر نے ہی کرنا ہے۔ امریکہ کی مرضی کی وہ کب تحفظات کا اعلان کردے اور کب انہیں خارج کردے۔ ان کا مقصد تو آئی ایم ایف والے پورا کر رہے ہیں۔ ملا نصیرالدین کی طرح دیکھنا ہے کہ گدھا بغیر کھائے پیئے کتنی دیر زندہ رہ سکتا ہے۔ ہمیں تو اور بہت سے کام ہیں مثلاً بچوں کی چھٹیاں۔ ابھی سموگ اتر آئی تو حکمرانوں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے تعلیمی ادارے ہفتے میں تین دن بند رکھنے کا حکم جاری کردیا۔ اب دیکھیے یہ معمولی اقدام نہیں کہ بچوں کو سموگ سے بچا لیا گیا۔ یہ ایک احسان ہے جو انہوں نے چھٹیاں کرکے عوام پر کیا ہے۔ یہ میرٹ پر کام کرنے والے میرٹ بنا رہے ہیں۔ ایک ٹولہ ہے جسے حکومت کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ابھی ایک خبر دیکھی کہ ڈائریکٹر ایجوکیشن کو میرٹ پر ڈائریکٹر ہائوسنگ بنا دیا گیا ہے۔ حاکم تو حاکم ہے بقول شہزاد احمد وہ اپنے تھانیدار کو بھی لیڈی ڈاکٹر بنا سکتا ہے۔ اب یہ صرف 92 چینل کا پروگرام نہیں رہا کہ ’’ہو کیا رہا ہے‘‘ ہر شخص اپنی آنکھوں میں یہی سوال اٹھائے پھرتا ہے: ہمارے پاس حیرانی نہیں تھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں تھی ہمیں ہونا تھا رسوا ہم ہوئے ہیں کسی کی ہم نے بھی مانی نہیں تھی