اسلام آباد سے روزنامہ 92 نیوز کے مطابق پاکستان میں کیلے کی پیداوار میں اضافہ کے لیے ملکی تاریخ میں پہلی بار دو نئی اقسام تیار کرلی گئی ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا کہنا ہے ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید زرعی طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہمیں اپنی زراعت خصوصاً بڑی فصلوں‘ پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ غلہ اگانے کی بھی ضرورت ہے،جس کے لئے جدید زرعی ٹیکنا لوجی کو کام میں لانا چاہیے ۔ کیلا مقوی صحت،زود ہضم اور دنیا میں سب سے زیادہ کھایا جانے والا پھل ہے۔پاکستان میں جو کیلا پیدا ہوتا ہے وہ اپنے ذائقے اور معیارکے لحاظ سے اعلیٰ درجے کا سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی کیلے کی مانگ بہت زیادہ ہے،خاص طور پر رمضان کے مہینے میں اس کی مانگ میں نہ صرف اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ اس کے دام بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماضی میں اس کی پیداوار میں اضافے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔اس وقت پاکستان میں کیلے کی فی ایکڑ پیداوار بھارت اور چین کے مقابلہ میں کم ہے۔ ہمارے ہاں صرف 80 ہزار ایکڑ رقبے پر کیلا اگایا جاتا ہے جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کیلے کی نئی اقسام کے پودوں کو زیادہ سے زیادہ رقبے پر لگایا جائے اور اس کے لئے جدید زرعی طریقوں کا استعمال کیا جائے ۔ اس سے نہ صرف کیلے کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہم کیلا برآ مد کرنے کے قابل بھی ہو سکیں گے۔